تیری تحریروں سے آتی ہے تیرے ہاتھ کی خوشبو
بے وفا مجھ سے تیرے خط جلائے نہیی جاتے
بہت نفرت تھی اسے بیوفاؤں سے
نجانے اُسکی خود سے کیسے بنتی ہوگی
اک چھوٹی سی غلطی پر مجھے وہ چھوڑ گیا۔۔۔۔۔۔
جیسے صدیوں سے میری غلطی کی تلاش میں تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یاد آیا اس کے آخری الفاظ یہ تھے۔
اگر جی سکو تو جی لینا ویسے اگر مر جاو تو اچھا ہے۔
خالی ہے دل فقیر کے کشکول کی طرح
اس شہر بے وفا سے وفا کون لے گیا
وہ مستقل عادی ہے عارضی محبت کا....
وہ میرے بعد کسی اور سے دل لگائے گا.!
او بےوفا تیری وفا پہ ناز تھا
چب کر تیر مارا وہ بھی بے آواز تھا
او بےوفا تیری وفا پہ ناز تھا
چب کر تیر مارا وہ بھی بے آواز تھا
کچھ غم نہیں اس کے بچھڑ جانے کا شاکر
افسوس اتنا ہے میرا ہو کے بھی میرا ہو نہ سکا
تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کب خالی
چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی
غم میں ملا کے خوشی کے رنگ
آو ذرا جینے کی اداکاری کی جائے
ہم ہنستے ہیں تو انہیں لگتا ہے
کہ ہمیں عادت ہے مسکرانے کی
پروہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے
کہ یہ ادا ہے غم چھپانے کی
غم زندگی تیری راہ میں شب آرزو تیری چاہ میں
جو اجڑ گیا وہ بسا نہیں جو بچھڑ گیا وہ ملا نہیں
یہ خوش لباسی لبادہ ہے غم چھپانے کا
اگر چہ اجڑے ہوۓ ہیں مگر سجے ہوۓ ہیں
خوشیاں ہو تو نیندوں کا بھی رہتا ہے سلسلہ
جب غم مقدر بن جائے تو سویا بھی نہیں جاتا
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
بڑھ بڑھ کر چومتی رہیں خوشیاں تیرے قدم
بھولے سے بھی نہ آئے تیری زندگی میں غم
وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پہ واجب ہے
تمام عمر بچھڑنے کا غم کیا جائے
اے دل ناداں تو نے اگر میری بات مانی ہوتی
آج ہر لب پر نہ یوں میری کہانی ہوتی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain