آج بھی اتنا پیار ہے اس دل میں اس کے لیے
ابھی بھی کسی اور کے لیے دھڑکتا ہی نہیں
ہزار بار ترک اے تعلق کا اہتمام کیا
مگر
جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا
نہ کسی کا دل نہ کسی کی جان چاہئے
جو دل کا حال سمجھے ہم کو وہ انسان چاہئے
چہرے پہ ہاتھ رکھ کے جب بھی ہنستی ہے
اس کی یہ ادا میرے دل کو ڈستی ہے
کبھی توڑا کبھی جوڑا کبھی پِھر جوڑ کے توڑا
ناکارہ کردیا میرے دل کو پیوندکارییوں نے
ابھی سے میرے رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے
ابھی تو چاک میرے زخم کے سلے بھی نہیں
اتنا کھایا نہیں تھا نمک تیرا
جتنا چھڑکا ہے تم نے زخموں پر
دل میں کتنے زخم ہیں کسی کو کیا پتہ
یہ اور بات ہے کہ ہم مسکرا کے جیتے ہیں رولانے والوں کے سامنے
جگر کے زخم ہی داستاں میں رنگ بھرتے ہیں
ورنہ لفظ لکھنے سے کہاں تحریر بنتی ہے
کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے
مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا
وہ میرے ضبط کا اندازہ کرنے آیا تھا
میں ہنس کے زخم نہ کھاتی تو اور کیا کرتی
کبهی سوچا نا تها کہ وہ بهی مجهے تنہا کر جاے گا
جو اکثر پریشان دیکھ کے کہتا تھا میں ہوں نا
نہیں ہے کوئی منتظر ہمارا جس سے کریں دل کی بات
سو جاؤ کہ دنیا مصروف ہے اپنے چاہنے والوں کر ساتھ
مل گئے تجھے وہ جن سے تجھے چاہت تھی ہمارا کیا ہے؟
ہم کل بھی تنہا تھے آج بھی تنہا ہیں ۔
پھر سے محسوس ہوئی تیری کمی شدت سے
آج بھی دل کو منانے میں بہت دیر لگی
کبھی تو مجھے تم بھی اکیلا چھوڑا کرو۔۔۔۔😔😔
اے تنہائی
سب روٹھ جاتے ہیں مجھ سے کبھی تم بھی روٹھا کرو۔۔۔
آج میں نے اپنے سائے سے پوچھا میرے ساتھ کیوں چلتے ہو تو اس نے ہنس کر بولا
اور تیرا ہے کون ۔۔۔۔۔
مجھے بھلا کر سونا تو تیری عادت ہی بن گئی
کسی دن ہم ہمیشہ کے لیے سو گئے تو تمھیں نیند سے نفرت ہو جائے گی
رات ہے اور تیری یادوں کا تسلسل اتنا
کہ نیند آئے بھی تو آنکھوں کو برا لگتا ہے
اے رات تم تو آغوش محبت میں سو جایا کرو
ہماری تو عادت ہے چاند کی رکھوالی کرنا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain