ڈھلنے لگی تھی رات کہ تم یاد آ گئے
پھر اس کے بعد رات بہت دیر تک رہی
مت پوچھ میرے جاگنے کے وجہ اے چاند
تیرا ہی ہم شکل ہے جو سونے نہیں دیتا
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم سوتے کیوں نہیں
میں مسکرا کر کہتا ہوں
جن کے خواب ٹوٹ جائیں ان کو نیند نہیں آتی
مت پوچھ کیسے گزرے دن اور کیسی گزری رات۔
بہت تنہا جیے ہیں ہم تجھ سے بچھڑنے کے بعد۔
کبھی توڑا کبھی جوڑا کبھی پِھر جوڑ کے توڑا
ناکارہ کردیا میرے دل کو پیوندکارییوں نے
نیند سے کیا شکوہ کروں میں
قصور تو اس چہرے کا ہے جو مجھے سونے نہیں دیتا۔
یوں خیالات میں پاس نہ آیا کرو خدارا
اب صبر تو صبر ہے ہر بار تو نہیں ہوتا
یار اس زندگی کو کیسے کہوں اپنی زندگی
ایک سانس بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
بدل گیا نہ ہو پردیس جا کے ریحان
کہ اُس کا خط بھی ملا اب کے مختصر جیسا
میرے ساتھ تو ہر ساون میں ایسا ہی کچھ ہوتا ہے
زخم پرانے کھل جاتےہیں درد جگر میں ہوتا ہے
مت بہا آنسو بے قدروں کے لیے
۔
جو قدر جانتے ہیں وہ کبھی رونے نہیں دیتے
ہم کسی پر انگلی اٹھائے بھی تو کیوں
ہمارے دامن میں بھی تو ہزار کاٹے ہیں
کسی دن ہم بھی ڈھوب جائیں گے اس سورج کی طرح
پھر اکثر تجھے رلائے گا یہ رات کا منظر
اے رات تم تو آغوش محبت میں سو جایا کرو
ہماری تو عادت ہے چاند کی رکھوالی کرنا
جسے تہجتوں میں مانگا تھا کبھی
اسے طاق راتوں میں بھلانے کی دعا کی ہے
عشق ایک بار ہوتا ہے لیکن اس کا رنگ تاحیات رہتا ہے
کبھی آنکھوں کی چمک میں کبھی سیاہ حلقوں میں
ہوتی نہیں دعا قبول ترک عشق کی
دل چاہتا نا ہو تو دعا میں اثر کہا
دنیا تباہی کے دہانے پے کھڑی ہے
ایک میں ہوں کے مجھے تیری پڑی ہے
یار اس زندگی کو کیسے کہوں اپنی زندگی
ایک سانس بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
سزا ایسی ملی مجھ کو زخم ایسے لگے دل پر
چھپاتا تو جگر جاتا سناتا تو بکھر جاتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain