تو کیا جانے تیرے ہاتھوں تو
موت کو بھی ہنس کے قبول کر لے گے
بس تو ذرا ہاتھ لگا کے تو دیکھ
دستور عشق ہر کسی کو نہیں آتا
اور
جس کو آتا ہے اسے نبھانا نہیں آتا
عشق وہ امتحان ہے جس میں جو آزمایا نہ گیا وہ کبھی کامیاب نہ ہوا
سجا کر مسئلے دل سینے میں رکھا ہے اسے ہم نے قرنطینہ میں رکھا ہے
تو نے دیکھا ہی نہیں شہر میں پھیلی تھی وبا
مرنے والوں میں ترے حسن کے بیمار بھی تھے
میں اس کے خیال میں اس کے پاس سے گزر گیا
اب وہ کہہ رہی ہے میں اسے دیکھتا بھی نہیں
دیکھ اتنا کے نظر ہی لگ جاے مجھ کو۔۔
تیری نظر سے مر جانا اچھا لگتا ھے۔۔
تصور میں چلے آتے تمہارا کیا چلا جاتا
ہمیں دیدار ہو جاتا تمہارا پردا رہ جاتا
مجھے کیا پتا تم سے حسین کوئی ہے یا نہیں
تمھارے سوا کبھی کسی کو غور سے دیکھا ہی نہیں
اترتا نہیں موت سے پہلے
عشق ایسا بخار ہے سائیں
دیکھ اتنا کے نظر ہی لگ جاے مجھ کو۔۔
تیری نظر سے مر جانا اچھا لگتا ھے۔۔
عادت نہیں میری ہر کسی پہ فدا ہونے کی سرکار
تمہارا انداز غضب کا تھا، ہم سنبھل نہ پائے
زمانے والوں کی اوقات نہیں جو ہماری قیمت لگا سکے
بس ایک کمبخت عشق نے ہم کو نیلام کر دیا
f to f . آئینے بھی تمہیں تمہاری خبر نا دیں سکیں گے
آو دیکھو میری نگاہوں میں کتنی حسین ہو تم
.......999 +++++++++khuda hafiz
آئینے بھی تمہیں تمہاری خبر نا دیں سکیں گے
آو دیکھو میری نگاہوں میں کتنی حسین ہو تم
بڑی شفا ملی ھے تیرے عشق میں جاناں
جب سے یہ ھوا ھے دوسرا درد نہیں ھوا
زندگی کے سارے دکھ درد سے ہم نااشنا تھے مگر
پھر عشق ہوا اور ہر درد سے ہم آشنا ہوگئے
اس مرض کو مرض عشق کہا کرتے ہیں
نہ دوا ہوتی ہے جس کی نہ دعا ہوتی ہے
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain