میرا اس شخص سے بس اتنا سا تعلق ہے
درد اسے ہو تو مجھے محسوس ہوتا ہے
عشق کی اب آخری نسل ہیں ہم
اگلی نسلوں کو بس جسموں کی ضرورت ہوگی
کسی نے پوچھا کبھی عشق ہوا تھا
ہم نے مسکرا کے کہا آج بھی ہے
یہ تجھ سے عشق کی عنایت ہے ورنہ
عمر سے پہلے بالوں کا سفید ہونا نہیں بنتا
اسی انتظار میں بیٹھے ہیں ان کی محفل میں
کہ وہ نگاہ اٹھائیں تو ہم سلام کریں
تو نے دیکھا ہی نہیں شہر میں پھیلی تھی وبا
مرنے والوں میں ترے حسن کے بیمار بھی تھے
میں اس کے خیال میں اس کے پاس سے گزر گیا
اب وہ کہہ رہی ہے میں اسے دیکھتا بھی نہیں
لکھا ہے ڈاکٹر نے دوا کی جگہ تمہارا نام 😍😳
اور یہ بھی لکھا ہے 💞
صبح ،دوپہر اور شام 💑💞
کچھ پل کے لیے مجھے اپنی باہوں میں سلا لینا
اگر آنکھ کھلی تو اٹھا دینا اور اگر نہ کھلی تو دفنا دینا
میرا اس شخص سے بس اتنا سا تعلق ہے
درد اسے ہو تو مجھے محسوس ہوتا ہے
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
آج کھاو قسم اپنی خوبصورت آنکھوں کی
کیا تجھے زرا بھی عشق نہیں ھے مجھ سے
مثل تعویز ہے اک شخص
گلے پڑتا ہے تو سکون آتا ہے
میں نے اس رات تجھے ہی مانگا خدا سے
جس رات لوگ اپنے بخشنے کی دعا مانگ رہے تھے
دیکھنا بھی تو اسے دور سے دیکھا کرنا
اصول عشق نہی معشوق کو رسوا کرنا
جب بھی ملتا ہے وہ انداز جدا ہوتا ہے
چاند سو بار بھی نکلے تو نیا ہوتا ہے
تو نے دیکھا ہی نہیں شہر میں پھیلی تھی وبا
مرنے والوں میں ترے حسن کے بیمار بھی تھے
میں اس کے خیال میں اس کے پاس سے گزر گیا
اب وہ کہہ رہی ہے میں اسے دیکھتا بھی نہیں
لکھا ہے ڈاکٹر نے دوا کی جگہ تمہارا نام 😍😳
اور یہ بھی لکھا ہے 💞
صبح ،دوپہر اور شام 💑💞
لوگ عشق میں کیسے لب سے لب ملا لیتے ہیں
ہماری تو ان سے نظریں مل جائیں تو ہوش نہیں رہتا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain