کب تک ترستے رہیں گے تجھے پانے کی حسرت میں؟
دے کوئی ایسا زخم کہ میری سانس ٹوٹ جائے اور تیری جان چھوٹ جائے
ہم تو ہنستے ہیں دوسروں کو ہنسانے کی خاطر ریحان
ورنہ دل پہ زخم اتنے ہیں کہ رویا بھی جاتا
میں نے چاہا تھا زخم بھر جایئں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں
میرے زخموں کا الزام ان پر کبھی لگایا ہی نہیں
قصور تو اپنا تھا جو بن بتائے ہی انہیں اپنا مان بیٹھے
اس کے روٹھنے کی ادائیں بھی کیا غضب کی تھیں
بات بات پہ یہ کہنا دیکھ لو سوچ لو پھر نہ کہنا
امید نہ کر اس دنیا میں کسی سے ہمدردی کی
بڑے پیار سے زخم دیتے ہیں شدت سے چاہنے والے
بڑی دیر بعد لوٹے ہو
درد کافور ہو گۓ اب تو
اب ضرورت نہیں ہے مرہم کی
زخم ناسور ہو گۓ اب تو
تمہارے لگائے ہوئے زخم کیوں نہیں بھرتے
ہمارے تو لگائے ہوئے پیڑ تک سوکھ جاتے ہیں
اک یہ خواہش کہ کوئی زخم نہ دیکھے دل کا
اک یہ حسرت کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا
ڈال دینا میری لاش پے کفن اپنے ہی ہاتھوں سے
کہیں تیرے دیے ہوٸے زخم کوٸی اور نہ دیکھ لے
بڑے ہی سخت تھے زندگی کے حادثے
زخم بھی کھائے ہم نے مرہم بھی ہمیں رکھنا پڑا
کچھ خبر نہیں کہ کب موت آ جاےُ
تم بھی اک زخم دے دو کہیں تم رہ نہ جاوُ
کچھ خبر نہیں کہ کب موت آ جاےُ
تم بھی اک زخم دے دو کہیں تم رہ نہ جاوُ
یوں تو ہزاروں زخم ملے زمانے میں
پر ہر زخم کم ہی لگتا ہیں اس کے دئے ہوئے زخم سے
آج پھر تیرے خیال نے چھین لیا ہوش و حواس میرا
فناء ہو جائیں گے ہم اگر یہی سلسلہ رہا تو
آئینے بھی تمہیں تمہاری خبر نا دیں سکیں گے
آو دیکھو میری نگاہوں میں کتنی حسین ہو تم
زندگی کے سارے دکھ درد سے ہم نااشنا تھے مگر
پھر عشق ہوا اور ہر درد سے ہم آشنا ہوگئے
اس مرض کو مرض عشق کہا کرتے ہیں
نہ دوا ہوتی ہے جس کی نہ دعا ہوتی ہے
اس نے مجھ سے کہا کہ کبھی مجھے جدا تو نہ کرو گے
میں نے بھی اس سے کہہ دیا کہ کیا
کبھی کوئی آپ نے جسم سے روح کو جدا کرتا ہے کیا
تیرے بعد نظر نہیں آتی مجھے کوئی منزل
کسی اور کا ہونا میرے بس کی بات نہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain