آج کھا قسم اپنی خوبصورت آنکھوں کی
کیا تجھے ذرا بھی عشق نہیں ہے ہم سے؟
اترتا نہیں موت سے پہلے
عشق ایسا بخار ہے سائیں
لوگ عشق میں کیسے لب سے لب ملا لیتے ہیں
ہماری تو ان سے نظریں مل جائیں تو ہوش نہیں رہتا
باہر سے تو وہی رونق ہے آج بھی لیکن
اس عشق نے جلایا ہے اندر سے بہت کچھ
مجھے کیا پتا تم سے حسین کوئی ہے یا نہیں
تمھارے سوا کبھی کسی کو غور سے دیکھا ہی نہیں
نام تیرا خود ہی میری زبان پہ آ جاتا ہے
جب کوئی مجھ سے میری آخری خواہش پوچھتا ہے
وہ رکھ لے مجھے اپنے پاس کہیں قید کر کے
کاش کے کچھ ایسا مجھ سے قصور ہو جائے
عشق کا اپنا غرور حسن کی اپنی انا
ان سے آیا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا
آج پھر تیرے خیال نے چھین لیا ہوش و حواس میرا
فناء ہو جائیں گے ہم اگر یہی سلسلہ رہا تو
زمانے والوں کی اوقات نہیں جو ہماری قیمت لگا سکے
بس ایک کمبخت عشق نے ہم کو نیلام کر دیا
زندگی کے سارے دکھ درد سے ہم نااشنا تھے مگر
پھر عشق ہوا اور ہر درد سے ہم آشنا ہوگئے
اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام
تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا
اس مرض کو مرض عشق کہا کرتے ہیں
نہ دوا ہوتی ہے جس کی نہ دعا ہوتی ہے
آج پھر تیرے خیال نے چھین لیا ہوش و حواس میرا
فناء ہو جائیں گے ہم اگر یہی سلسلہ رہا تو
آئینے بھی تمہیں تمہاری خبر نا دیں سکیں گے
آو دیکھو میری نگاہوں میں کتنی حسین ہو تم
عشق ہے اپنے اصولوں پہ ازل سے قائم
امتحان جس کا بهی لیتا ہے رعایت نہیں کرتا
چپکے سے دھڑکن میں اتر جائیں گے
راہ الفت میں حد سے گزر جائیں گے
آپ جو ہمیں اتنا چاہیں گے
ہم تو آپ کی سانسوں میں پگھل جائیں گے
زندگی کے سارے دکھ درد سے ہم نااشنا تھے مگر
پھر عشق ہوا اور ہر درد سے ہم آشنا ہوگئے
اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام
تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا
ذرا ذرا سا تھا پر تھا کمال کا
وہ تمھارا مسکرانا جو ہمیں لے ڈوبا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain