جسے تہجتوں میں مانگا تھا کبھی
اسے طاق راتوں میں بھلانے کی دعا کی ہے
تم جان ہی نا پاۓ
میری سانسیں تیرے
ساتھ کی محتاج ہیں
جہاں تیرا ساتھ چھوٹا
میرا سانس سے رشتہ ٹوٹا
ہوتی نہیں دعا قبول ترک عشق کی
دل چاہتا نا ہو تو دعا میں اثر کہا
دنیا تباہی کے دہانے پے کھڑی ہے
ایک میں ہوں کے مجھے تیری پڑی ہے
حسن بھی خدا دیتا ہے
عقل بھی خدا دیتا ہے
عشق وہ سمندر ہے
جو دونوں کو بہا دیتا ہے
یوں خیالات میں پاس نہ آیا کرو خدارا
اب صبر تو صبر ہے ہر بار تو نہیں ہوتا
جان دے سکتے ہيں ہم تمہاري خاطر یہی ہمارے بس میں ہے
غریب لوگ نہیں کرتے کبھی باتیں ستارے توڑ لانے کی
یار اس زندگی کو کیسے کہوں اپنی زندگی
ایک سانس بھی نہیں ہے میرے اختیار میں
جو مانگتے ہیں دعائیں عمر دراز کی
انہیں بتا دو کے جینا کوئی مزاق نہیں
کچھ درد کچھ لوگ اور کچھ وعدے ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتے ہیں
میں اکثر شام کے منظر سے ڈرتا اس لئے بھی ہوں
فلک پر ڈوبتا سورج..... میرا انجام لگتا ہے
اپنے آپ سے ہم روٹھتے گٸے 😥
ساتھ اپنوں کے ہم سے چھوٹتے گٸے 😞
شکستہ دل ہوں مگر مسکرا کہ ملتی ہوں
اگر یہ فن ہے تو سیکھا ہے ایک عذاب کے بعد۔
مانا کہ ہم ہیں اجڑے ہوئے شہر کی مثال
آنکھیں بتا رہی ہیں ویران تم بھی ہو
بن تیرے باخدا نہیں آتا____
لفظ جس کو "قرار" کہتے ہیں___
حالات کر دیتے ہیں بھٹکنے پر مجبور۔
گھر سے نکلا ہوا ہر شخص آوارہ نہیی ہوتا۔
پر یشان کرتا تھا نا
میرا بولنا تمہیں
تو اب بتاو
پسند آئی تمہیں
میری خاموشی
خواب آنکھوں میں سجاے ہوۓ ہم معصوم سے لوگ
زندہ رہنے کی تمناوں میں مر جاتے ہیں.....
چل آ تجھے دیکھا دوں اپنے دل کی ویران گلیاں
صاحب
شاید تجھے ترس آجاۓ میری اداس زندگی پر 😔
اک شخص ہی کافی ہوتا ہے غم بانٹنے کے لیے
محفلوں میں تو بس تماشے بنتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain