تمھاری ناراضگی کے ڈر سے میں جو ہر بات مان لیتا ہوں
کبھی تم کو محبوب سمجھ کرکبھی خود کو مجبور سمجھ کر
جھوٹ کہوں تو سب کچھ ہے میرے پاس
اور سچ کہوں تو اک تیرے سوا کچھ بھی خاص نہیں
خوامخواہ چھیڑتی رہتی ہیں یہ رخساروں کو
تم نے ذلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے
کن لفظوں میں کروں بیاں اہمیت تیری
کہ بن تیرے میں ہمیشہ نا مکمل سا رہتا ہوں
کن لفظوں میں کروں بیاں اہمیت تیری
کہ بن تیرے میں ہمیشہ نا مکمل سا رہتا ہوں
تم ساتھ ہو تو دنیا اپنی سی لگتی ہے
ورنہ سینے میں سانس بھی پرائی سی لگتی ہے
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻟﮩﻦ ﺗﻮ ﺷﺮﺍﺭﺗﯽ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ
ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ
زندگی اپنا سفر طے تو کرے گی لیکن
ہمسفر آپ جو ہوتے تو مزہ اور ہی تھا
دل کرتا ہے تمھارے صدقہ اتاروں
بھلا اس قدر بھی خوبصورت ہوتا ہے محبوب کسی کا
تمہارے ہی ہاتھ میں ہے نبض سکوں شاید
قرار بھی دیتے ہو تو جیسے ادھار دیتے ہو
میں نے پوچھا آج ناشتے میں کیا ہے
اس نے انگلی اٹھائی اور ہونٹوں پے رکھ دی
دینا ہو ساتھ تو زندگی بهر کا دینا
لمحوں کا ساتھ تو جنازه اٹهانے والے بهی دیا کرتے ہیں
راستے میں یوں چھوڑ کر نہ جایا کر ساتھی
کچھ مسافروں کی منزل ہمسفر ہی ہوتی ہے
میں تمہاری مثال تو دے دوں مگر
ظلم یہ ہے کہ بے مثال ہو تم
کچھ نہیں چاہیے تمہاری ایک مسکان ہی کافی ہے
تم دل میں بسے رہو یہ ارمان ہی کافی ہے
ہم یہ نہیں کہتے ہمارے پاس اجاو
ہمیں یاد رکھنا یہ احسان ہی کافی ہے
نشہ کیا ہوتا ہے تجھے کیا پتا
کبھی یار کے لبوں پہ لب رکھ کے تو دیکھ
💔
وقت ملے تو رکھنا قدم میرے دل کے آنگن میں
حیران ہو جاوں گے میرے دل میں اپنا مقام دیکھ کر
دیکھ پگلی ہر چیز ایک حد تک اچھی لگتی ہے
بس ایک تو ہے جو حد سے زیادہ اچھی لگتی ہے
گلاب کے پھول کو دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہے
گلاب سے بھی خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بس گیا ہے
گلاب کے پھول کو دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ہے
گلاب سے بھی خوبصورت چہرہ آنکھوں میں بس گیا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain