یوں راتوں کو جاگنے کی میری عادت نہ تھی
نا جانے کس کی یادوں نے مجھے آوارہ بنا دیا
میری سانس کا کیا بهروسہ کہاں ساتھ چهوڑ جائے
میری ذات سے وابستہ لوگوں مجهے معاف کر کے سونا
غم تو لکھا سو لکھا میری زندگی میں
یوں رات بھر نیند نہ آنا کس جرم کی سزا ہے
ڈھلنے لگی تھی رات کہ تم یاد آ گئے
پھر اس کے بعد رات بہت دیر تک رہی
مت پوچھ میرے جاگنے کے وجہ اے چاند
تیرا ہی ہم شکل ہے جو سونے نہیں دیتا
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم سوتے کیوں نہیں
میں مسکرا کر کہتا ہوں
جن کے خواب ٹوٹ جائیں ان کو نیند نہیں آتی
مجھے بھلا کر سونا تو تیری عادت ہی بن گئی
کسی دن ہم ہمیشہ کے لیے سو گئے تو تمھیں نیند سے نفرت ہو جائے گی
جنھیں نیند نہیں آتی انھیں ہی معلوم ہے صبح ہونے میں کتنے زمانے لگتے ہیں
آج کی رات بھی ممکن ہے نا سو سکوں
یاد پھر آئی ہے نیندوں کو اڑانے والی
یہ جدائی کے اندھیروں میں دہکتی ہوئی رات
چاندنی چھوڑے گی اک دن مجھے پاگل کر کے
وقت کی تیز رفتاری سکھاتی ھے
بتاتی ہے ، دکھاتی ھے ، منزل بھی مسافر بھی ، اپنے بھی پرائے بھی
ٹھکرا دیا ہے جنھوں نے مجھے میرا وقت دیکھ کر۔۔۔۔
وعدہ ہے ایسا وقت لاوں گا ملنا پڑے گا مجھ سے میرا وقت لے کر۔۔۔
وقت کی اک عادت بہت اچھی لگی مجھے
جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے.... 🙏🙏
رات اٹھ نہ سکا درواذے کی دستک پہ
صبح بہت رویا اس کے پیروں کے نشاں دیکھ کر
مت پوچھا کرو رات بھر جاگنے کی وضاحتیں۔
محبت میں کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوتے
کون کہتا ہے کہ تیری چاہت سے بے خبر ہوں
بستر کی ہر شکن سے پوچھ کیسے گزرتی ہے رات
کل رات ہم نے اپنے سارے دکھ ديوار پر لکھ ديے
پھر ہم سوتے رھے اور ديواريں روتى رہی
اگر کبھی نیند آ جاۓ تو سو بھی لیا کر
راتوں کو جاگنے سے بچھڑے لوٹا نہیں کرتے
سو جاو تمہاری نرم آنکھیں سرخ نہ ہو جائیں نیند سے
ہمارا کیا ہم تو لوگوں سے وفا کرنے کی سزا کاٹ رہے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain