تاروں سے پوچھ لو رات کس طرح گزاری میں نے
فلک بھی کہہ رہا تھا تمہیں نیند کیوں نہیں آتی
ایسا لگتا ہے میں سوتا بہت ہوں۔
سچ تو یہ ہے کہ میں روتا بہت ہو۔
میری گواہی تو وہ تکیہ دے گا۔
جسے رات بھر میں بھگوتا بہت ہو۔
دیتا ہے درد مل کر بھی وہ مگر
آج اسی بے درد کو لے آو کے کچھ رات کٹے
چلا گیا چاند دیکھو سو گئے ستارے بھی
اب تو آ جاؤ اے نیند ادھورے ہیں کچھ خواب ہمارے بھی😐😐🙄😐😐😒😒
اب نہ جاگیں گے راتوں کو تیری یادوں کے سہارے
ہم نے عادت کو بدلنا ہے تیری نظروں کی طرح
اک اور سورج چڑھ آیا ہے
پھر سے ایک اداس شام لایا ہے
پچھلی رات نہ بھولے تھے کہ
پھر سے چاند نظر نکل آیا ہے
وہ جسے نیند کہا کرتے ہیں سب چین کی نیند
وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں
یوں راتوں کو جاگنے کی میری عادت نہ تھی
نا جانے کس کی یادوں نے مجھے آوارہ بنا دیا
میری سانس کا کیا بهروسہ کہاں ساتھ چهوڑ جائے
میری ذات سے وابستہ لوگوں مجهے معاف کر کے سونا
غم تو لکھا سو لکھا میری زندگی میں
یوں رات بھر نیند نہ آنا کس جرم کی سزا ہے
ڈھلنے لگی تھی رات کہ تم یاد آ گئے
پھر اس کے بعد رات بہت دیر تک رہی
مت پوچھ میرے جاگنے کے وجہ اے چاند
تیرا ہی ہم شکل ہے جو سونے نہیں دیتا
ملنے کے صرف دو ہی معیار ہوتے ہیں
خون ملتا ہو یا خیالات ملتے ہوں
جل کر راکھ ہو گیا آشیانہ میرا
جس نے دیکھا میرے جلنے کا تماشا دیکھا
زندگی میں سب لوگ دوست یا رشتہ دار بن کر نہیں آتے ۔
کچھ لوگ سبق بن کر بھی آتے ہیں ۔
Allah hafiz namz time phir melan gy bye sb chalo namz k lea chalo
عام لوگوں کی شدید کمی ہے
ہر کوئی خود کو بہت خاص سمجھ رہا ہے
راشن تھما دیا کسی نے سلفی کے ساتھ
جو مرنے لگا تھا بُھوک سے شرم سے مر گیا
الفاظ کی تلخیاں میری وضاحتوں کے قابل نہیں
میرے سکوت کا تھپڑ کافی ہے ہر گستاخ لہجے کے لیے
اک دن بھی نبھا نہ پائیں گے میرا کردار
وہ لوگ جو مجھے مشورے ہزار دیتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain