عجیب قحط مسیحائی ہے کہ اب تو یہاں
اپنے بھی اپنوں کو چھو لیں تو مر جائیں گے
اک دن بھی نبھا نہ پائیں گے میرا کردار
وہ لوگ جو مجھے مشورے ہزار دیتے ہیں
جن کی سن لو وہی فرشتہ ہے
نجانے انسان کہاں رہتے ہیں
ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﺳﮯ
ﺁﮒ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺁﺷﯿﺎﮞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ
بدل جاتے ہیں وہ لوگ وقت کی طرح
جنہیں حد سےزیادہ وقت دے دیا جائے
مانا کہ بروں سے بھی برا ہوں
لوگ تو اَچھوں کو بھی اَچھا نہیں کہتے
مجھے پتا ہے دنیا کی ہمدردی میں بھی دھوکے ہوتے ہیں میں سوگ میں بھی ہوں تو بن ٹھن کے نکلتا ہوں
پانی لے کے کھڑا رہا دریا
نیکیاں ساری کیمروں میں ڈالیں گئیں
میں نے پوچھا ہی نہیں اس کا حال احوال چہرہ دیکھ کر اس کا ساری بات سمجھ گیا
بچھڑ کر مجھ سے کتنی بار مرا ہے وہ
کیسے گزرا ہر دن کیسے رات سمجھ گیا
Aym
مفادات کی عینک اتار کے دیکھ لیجئے
دنیا میں بہت اچھے اچھے انسان ملیں گے
بہت کم لوگوں کو خاص رکھتا ھوں ۔۔۔🤗🤗
مگر جسے رکھتاھوں تاحیات رکھتا ھوں۔ ❤❤
روٹی نہیں کمائی تو کیا کھائیگا غریب
کس طرح قیدو بند میں جی پائیگا غریب
اتنا تو سوچ لیتے امیران سلطنت
گھر میں رہا تو بھوک سے مرجائیگا غریب
باتوں سے بھی بدلی ہے کسی قوم کی تقدیر
بجلی کے چمکنے سے اندھیرے نہیں جاتے
پہلے لوگ دل سے بات کرتے تھے
اب موڈ اور مطلب سے بات کرتے ہیں
آوارگی چھوڑ دی تو بھولنے لگی دنیا
بدنام تھے تو اک نام تھا اپنا
قوش قزح کے رنگ تھے میرے خلوص میں
احباب سارے رنگوں کے اندھے ملے مجھے۔
الگ بات ہے کہ خاموشی سے کھڑے ہیں کنارے پر
لیکن سب جانتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے
روح تڑپ جاتا ہے میرا گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرنے سے
لوگ کتنا کچھ کہا کرتے تھے اور کتنا کچھ کیا کرتے تھے
جن کے آنگن میں غریبی کا شجر ہو
ان کی ہر بات زمانے کو بری لگتی ہے
یوں تو ہر شخص بڑے احترام سے ملا
مگر جو بھی ملا اپنے کام سے ملا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain