بچھڑ کر اس کا دل لگ بھی گیا تو کیا لگے گا وہ چاہے گا اور میرے گلے سے آ لگے گا میں مشکل میں تمہارے کام آؤں یا نہ او مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا
گیلا تیرا کریے اسی مر نہ جاواں میرے منہ پر لے آ میرے منہ پر لے آ 😐😐😐
مت کیا کر اپنے درد کو شاعری میں بیاں اے دوست
لوگ اور ٹوٹ جاتے ہیں ہر لفظ کو اپنی داستان سمجھ کر
کیسے مانگیں خدا سے دعا ان کی خوشیوں کی
جب کہ وہ اکثر ہمیں پکارتا ہے درد ملنے کے بعد
ہم نے چرچا بہت سنا تھا تیری سخاوت کا
کیا معلوم تھا تم درد بھی دل کھول کر دیتے ہو
بہت گہری تھی رات لیکن ہم سوئے نہیں
درد بھی بہت تھا دل میں مگر ہم روئے نہیں
کوئی نہیں ہمارا جو پوچھے ہم سے بھی
جاگ رہے ہو کس لئے اور کس لئے سوئے نہیں
یہ رات اتنی تنہا کیوں ہوتی ہے
قسمت سے سب کو شکایت کیوں ہوتی ہے
کبھی ملے خدا تو پوچھنا
جو مل نہیں سکتے ان سے محبت کیوں ہوتی ہے
خاموشی بے سبب نہیں ہوتی
درد آواز چھین لیتا ہے
درد کو بھی اب درد ہونے لگا ہے
درد خود دوا بننے لگا ہے
روئے نہ تھے ہم کبھی درد کے مارے
درد خود ہمیں چھو کر رونے لگا ہے
زخم کھا کھا کے ہوا یہ بھی تجربہ ہم کو
حد سے بڑھ جائے تو پھر درد سکوں دیتا ہے
جب تیرے درد میں دل دکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کیا کرتے تھے
نہ کوئی ہمدرد تھا نہ کوئی ہی درد تھا
پھر ایک ہم درد ملا اسی سے سارا درد ملا
مجھے معلوم نہ تھا کہ اتنے سخی ہو تم
درد بھی دیتے ہو اور دل کھول کر دیتے ہو
حقیقی درد وہ ہے جو دوسروں کو درد میں دیکھ کے ملے
ورنہ اپنا درد تو جانور کو بھی محسوس ہوتا ہے
سارے درد مجھے سونپ دیئے
اتنا اعتبار تھا مجھ پر
میں جب جب تجھ کو سوچتا ہوں
میں تب تب خود کو نوچتا ہوں
اے کاش تم بھی مجھے یوں چاہو
جیسے درد میں کوئی سکون چاہتا ہے
اے کاش تم بھی مجھے یوں چاہو
جیسے درد میں کوئی سکون چاہتا ہے
ہمیں تو ہماری چپ نے چپ رکھا
ورنا اتنا درد لکھتے زمانہ روتا
ہم برے کیسے ہوئے صاحب
درد لکھتا ہوں کسی کو دیتا تو نہیں ہوں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain