Damadam.pk
innoxent_-sheikh's posts | Damadam

innoxent_-sheikh's posts:

innoxent_-sheikh
 

جو لوگ اعترافِ جُرم نہیں کرتے
اُن کو احساسِ جُرم ما ر دیتا ہے۔

innoxent_-sheikh
 

جُرم تیرا بھی کبھی قابلِ معافی نہ تھا
جا تجھے چھوڑ دیا صرف بد دُعا دے کر۔

innoxent_-sheikh
 

وقت کے ہا تھ سے گزرے ہوئے لمحو ں کی طرح
بھول جاؤ گے تم بھی تو مجھے لوگوں کی طرح۔

innoxent_-sheikh
 

بڑی عجب سی کشمکش ہے اس ایک زندگی کی
بہت کچھ حا صل کر کے بھی کیوں ہے بے چینی سی۔۔۔

innoxent_-sheikh
 

صاحب علم ہی بدلیں گے حالات کے تیور
جو زور قلم میں ہے تلوار میں کہاں۔۔۔

innoxent_-sheikh
 

حوس کی آگ میں وہ جل گیا جسے اقبال کہتا تھا
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹا نوں میں۔۔۔
miss u bewafa

innoxent_-sheikh
 

ہم سراہتے ہیں ایسی آنکھوں کو
جو سراہتی ہیں حسن والوں کو۔۔۔

innoxent_-sheikh
 

آنکھوں میں کو ئی رہتا ہے سراب کی صورت
دل کہ گلشن میں کھلا رہتا ہے گلاب کی صورت۔۔۔

innoxent_-sheikh
 

وقت اپنے اصولوں پہ ازل سے ہے قائم
امتحاں جس کا بھی لیتا ہے رعایت نہیں کرتا

innoxent_-sheikh
 

ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دل کی ویرانی
تما م شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے Good evning

innoxent_-sheikh
 

مل ہی جا ئے گا کو ئی ہمیں ٹوٹ کر چاہنے والا
ساحل ،اب شہر کا شہر تو بے وفا نہیں ہو سکتا۔Good night Allah hafiz bye bye

innoxent_-sheikh
 

نبض کا ٹی تو خو ن سر خ ہی نکلا
سو چا تھا سب کی طر ح یہ بھی بد ل گیا ہو گا۔

innoxent_-sheikh
 

نیند تو بچپن میں آ تی تھی
اب تو بس تھک کر سو جاتے ہیں۔

ہمارے لئے نہیں ہم پر ہی سہی 
چلو وہ آ ج دل کھو ل کر ہنسے تو سہی۔
i  : ہمارے لئے نہیں ہم پر ہی سہی چلو وہ آ ج دل کھو ل کر ہنسے تو سہی۔ - 
innoxent_-sheikh
 

بام عروج پر بھی کبھی آؤں گا ضرور
ہمدم میرا زوال فقط چار دن کا ہے

بدل گیا نہ ہو پردیس جا کے محسن 
کہ اُس کا خط بھی ملا اب کے مختصر جیسا
i  : بدل گیا نہ ہو پردیس جا کے محسن کہ اُس کا خط بھی ملا اب کے مختصر جیسا - 
innoxent_-sheikh
 

تمہار انام لکھنے کی مجھے عادت پڑی ایسی
جہاں ہوں دستخط کرنے تمہارا نام لکھتا ہوں

innoxent_-sheikh
 

میری تباہیوں میں تیرا ہی ہاتھ ہے
اور میں سب سے کہہ رہا ہوں مقدر خراب ہے

innoxent_-sheikh
 

یہاں الفاظ بکتے ہیں تجارت ہے تخیل کی
محبت ایک پیشہ ہے تمہارے شہر میں

innoxent_-sheikh
 

عیادت رسم دنیا تھی چلے آتے تو کیا ہوتا
تمہارے پوچھ لینے سے نہ جی جاتے نہ مر جاتے