Damadam.pk
innoxent_-sheikh's posts | Damadam

innoxent_-sheikh's posts:

innoxent_-sheikh
 

میری آنکھوں کو دیکھ کر طبیب بولا
چلا جا عشق کا علاج نہیں ہے

innoxent_-sheikh
 

کرے گا زمانہ بھی قدر ہماری ایک دن دیکھ لینا
بس یہ ایک وفا کی عادت چُھو ٹ لینے دو۔

innoxent_-sheikh
 

آج بھی یا د آ تی ہے اس کی ایک عادت
جانے کا کہہ کے بھی ہا تھ کو پکڑے رکھنا۔

innoxent_-sheikh
 

آج بھی یا د آ تی ہے اس کی ایک عادت
جانے کا کہہ کے بھی ہا تھ کو پکڑے رکھنا۔

innoxent_-sheikh
 

انہیں خبر ہی نہیں کہ عشق میں ہزاروں غم بھی ہیں
وہ مصروف رہتا ہے وفاؤں میں ہماری۔

innoxent_-sheikh
 

لو گ پڑ ھ لیتے ہیں میری آ نکھوں سے تیرے پیا ر کی شدت
مجھ سے اب تیرے عشق کی حفا ظت نہیں ہو تی۔

innoxent_-sheikh
 

کرتا ہوں قدر جس قدر میں اپنوں کی اے خدا
ملتا کیوں نہیں بدلے میں بے قدری کے سوا۔

innoxent_-sheikh
 

اپنی تو وہ مثا ل ہے جیسے کو ئی درخت
اوروں کو سایہ دیا اور خود دھوپ میں جلے۔

innoxent_-sheikh
 

یا رب تو ہی کرلے قبول کو ئی سائل کا اک
عمر ہو گئی عبادت یار کرتے ہوئے۔

innoxent_-sheikh
 

سچ تو یہ ہے کہ غیر پھر بھی بھرم رکھ لیتے ہیں
اپنے تو بس تماشہ ہی دیکھتے ہیں۔

innoxent_-sheikh
 

ہم آ ہ ! بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔

innoxent_-sheikh
 

رابطہ ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی
اب جو ملنا ہی نہیں تو وفائیں کیسی
چند یادیں اور آنسو ہیں وہ واپس لے لو
جب کوئی جرم ہی نہیں تو یہ سزائیں کیسی

innoxent_-sheikh
 

کچھ لفظوں کی ترتیب سے بنتی ہے شاعری 🔥
کبھی کبھی آنکھیں بھی پوری غزل ہوا کرتی ہیں۔۔🍁 ♥️💯♥️

innoxent_-sheikh
 

وہم سے بھی ختم ہو جاتے ہیں اکثر رشتے ۔۔۔❤
قصور ہر بار غلطیوں کا نہیں ہوتا ۔۔۔❤

innoxent_-sheikh
 

سرمے کی دھار بھی ______ نہ اُسے کر سکی بحال
یوں جم گیا تھا _____ آنکھ میں تیری کمی کا دکھ

innoxent_-sheikh
 

آنکھوں کو عادت ہو گئی ھے
انتظار کی تم آتے ہی نہیں ہو
ہم ہر جا بہ جا ڈونڈتے ہیں تمہیں
اب تو آ جا کے برسوں بیت گئے ہیں

innoxent_-sheikh
 

بچھڑ کے تو خط بھی نہ لکھے یا روں نے
کبھی کبھی کی ادھوری سی بات سے بھی گئے۔

innoxent_-sheikh
 

ہم فقیروں سے دوستی کرلو
گُر سِکھا دیں گے با دشا ہی کے۔

innoxent_-sheikh
 

یاروں نے کس خلوص سے رستہ بدل لیا
مجھ کو ہجوم غم میں گرفتار دیکھ کر

innoxent_-sheikh
 

دوستوں کی زباں کو کھلنے دو
بھول جاؤ گے زخم خنجر کے