میری آنکھوں کو دیکھ کر طبیب بولا
چلا جا عشق کا علاج نہیں ہے
کرے گا زمانہ بھی قدر ہماری ایک دن دیکھ لینا
بس یہ ایک وفا کی عادت چُھو ٹ لینے دو۔
آج بھی یا د آ تی ہے اس کی ایک عادت
جانے کا کہہ کے بھی ہا تھ کو پکڑے رکھنا۔
آج بھی یا د آ تی ہے اس کی ایک عادت
جانے کا کہہ کے بھی ہا تھ کو پکڑے رکھنا۔
انہیں خبر ہی نہیں کہ عشق میں ہزاروں غم بھی ہیں
وہ مصروف رہتا ہے وفاؤں میں ہماری۔
لو گ پڑ ھ لیتے ہیں میری آ نکھوں سے تیرے پیا ر کی شدت
مجھ سے اب تیرے عشق کی حفا ظت نہیں ہو تی۔
کرتا ہوں قدر جس قدر میں اپنوں کی اے خدا
ملتا کیوں نہیں بدلے میں بے قدری کے سوا۔
اپنی تو وہ مثا ل ہے جیسے کو ئی درخت
اوروں کو سایہ دیا اور خود دھوپ میں جلے۔
یا رب تو ہی کرلے قبول کو ئی سائل کا اک
عمر ہو گئی عبادت یار کرتے ہوئے۔
سچ تو یہ ہے کہ غیر پھر بھی بھرم رکھ لیتے ہیں
اپنے تو بس تماشہ ہی دیکھتے ہیں۔
ہم آ ہ ! بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔
رابطہ ٹوٹ چکا ہے تو صدائیں کیسی
اب جو ملنا ہی نہیں تو وفائیں کیسی
چند یادیں اور آنسو ہیں وہ واپس لے لو
جب کوئی جرم ہی نہیں تو یہ سزائیں کیسی
کچھ لفظوں کی ترتیب سے بنتی ہے شاعری 🔥
کبھی کبھی آنکھیں بھی پوری غزل ہوا کرتی ہیں۔۔🍁 ♥️💯♥️
وہم سے بھی ختم ہو جاتے ہیں اکثر رشتے ۔۔۔❤
قصور ہر بار غلطیوں کا نہیں ہوتا ۔۔۔❤
سرمے کی دھار بھی ______ نہ اُسے کر سکی بحال
یوں جم گیا تھا _____ آنکھ میں تیری کمی کا دکھ
آنکھوں کو عادت ہو گئی ھے
انتظار کی تم آتے ہی نہیں ہو
ہم ہر جا بہ جا ڈونڈتے ہیں تمہیں
اب تو آ جا کے برسوں بیت گئے ہیں
بچھڑ کے تو خط بھی نہ لکھے یا روں نے
کبھی کبھی کی ادھوری سی بات سے بھی گئے۔
ہم فقیروں سے دوستی کرلو
گُر سِکھا دیں گے با دشا ہی کے۔
یاروں نے کس خلوص سے رستہ بدل لیا
مجھ کو ہجوم غم میں گرفتار دیکھ کر
دوستوں کی زباں کو کھلنے دو
بھول جاؤ گے زخم خنجر کے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain