اپنے مطلب کے بغیر کو ئی کسی کو یا د نہیں کرتا
شجر جب سُو کھ جاتے ہیں تو پرندے بھی ان پر بسیرا نہیں کرتے۔
کو ئی حل تُو ہی بتا دے میرے دل کی کشمکش کا
تُجھے بھو لنا بھی چا ہوں تیری یا د بھی ستا ئے
اُداس رات ادُھورا چانداور تنہا ہے دل میرا
کچھ بھی تو مکمل نہیں میرے پاس اِک تیرے وجود کے سِوا
کیا ملے گا دِلو ں میں نفرت رکھ کر
مختصر سی ہے یہ زندگی مسکرا کے ملا کرو
میں تو اِس واسطے چپ ہوں کے تماشا نا بنے
تم سمجھتے ہو مجھے تم سے گلہ کچھ بھی نہیں؟؟
یہ کسی پیر یا مرشد کے بس کی بات نہیں
اداس لوگوں کے مسئلےخدا سمجھتا ہے
یو ں پیا ر سے تو نہ دیکھ مجھے
یوں تم سے پیا ر ہو جا ئے گا۔
کیوں نہ کروں ناز اپنے آ پ پر
مجھے اس نے چا ہا جسے ہزا روں چا ہنے والے تھے۔
دل دُ کھتا ہے اس کی یا د میں صاحب
جو اپنا بھی نہ ہوا اور غیر بھی نہ بن سکا۔
سُنو! آ نکھوں سے پڑ ھ لینا وہ ساری اَن کہی با تیں
کو ئی پو چھے تو کہہ دینا راز داری ہے۔
روئے بہت اس کے دروازے پر دستک دے کر
درد کی انتہا ہو گئی جب اس نے پو چھا کون ہو تم۔
تم ہی بتا ؤ کیا کروں اس دل کا
ابھی با ت ہی کی ہے تم یا د آ نے لگ گئے ہو۔
تم ہی بتا ؤ کیا کروں اس دل کا
ابھی با ت ہی کی ہے تم یا د آ نے لگ گئے ہو۔
میرے پاس سے وہ گزرا میرا حال تک نہ پوچھا
میں کیسے مان جاؤ کہ وہ دور جا کے روئے گا۔
تیرے ہوتے ہوئے بھی اے خالق
مجھ پے ہر شخص نے خُدائی کی۔
پاؤگے ہم سے بچھڑ کر بھی ہم کو آس پاس
ہر شے میں زندگی کی جھلک چھوڑ جائیں گے۔
کون کرے اس دنیا میں وفا کسی سے فرازؔ
دل کے دو حروف ہیں وہ بھی جُدا جُدا۔
جب تک نہ لگے اپنوں سے ٹھو کر اے دوست
ہر کسی کو اپنی پسند پے نا ز ہو تا ہے۔
جان سے بڑھ کر جس کو چا ہا تھا
آ ج وہی زمانے سے کہتا پھر رہا ہے کہ
ہم سے بڑا بے وفا کو ئی نہیں۔
ما نا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہم
تر چھی نظر سے دیکھ مگر دیکھ تو سہی۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain