محبت مل نہیں سکتی مجھے معلوم ہے صاحب
مگر خاموش رہتاہوں محبت کر جو بیٹھا ہوں
دن ڈھل گیا سورج کا کہیں نام نہیں ہے
اے وعدہ شکن اب بھی تیری شام نہیں ہے۔۔
اب فقط دیکھتے ہی رہتے ہیں..
ورنہ ہم بھی تو بولتے تھے, کبھی~💔🔥
پوچھ رھا تھا کوئی گلی میں بچوں سے
جانے والا رستے میں رویا تونہیں
اُداس رہتا ہے آج کل محلے میں با رش کا پا نی
سُنا ہے بڑ ے ہو گئے ہیں کا غذ کی کشتی بنا نے والے۔
اُسے پَسند نہیں ہے ...
میرا نَظَر آنا....
سَو اَب یہ ٹَھان لیا ہے..
کہ نا دِکھائی دُوں....
کَرنا شِکوَہ تو خُدا کو بھی..
ناپسند ہے نا.......؟
اِسِلئَیے سوچا ہے...
کِسی کو نا دُھائی دُوں.......
مِیری آَواز سے نَفرت....
مُجھےخُود ہَوگَئی ہے..
میں نے یِہ طَے کِیا....
خُود کو بھی ناسُنَائی دُوں....
اَب اَگر آَسمَان سےاُترے....
فَیصلَہءِ وَصل.......
میری خُواھِش ہے میں.....
مَر کراُسےجُدائی دُوں.........
mera baba ki tabiyat bhot kharab hai sb say dua ki appel😩😩😩😩😩😩😩😩😩 plz dua kro plz plz🙏🙏🙏🙏🙏🙏plz hath jorta hn🙏🙏🙏
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ
عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح
خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ
جانے کس امید پر ہوں آبیاری میں مگن
ایک پتہ بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ
میں ابھی تک رزق چننے میں یہاں مصروف ہوں
لوٹ جاتے ہیں پرندے شام کی سرخی کے ساتھ
پھینک دے باہر کی جانب اپنے اندر کی گھٹن
اپنی آنکھوں کو لگا دے گھر کی ہر کھڑکی کے ساتھ
جان جا سکتی ہے خوشبو کے تعاقب میں نویدؔ
سانپ بھی ہوتا ہے اکثر رات کی رانی کے ساتھ
اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی
مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی
خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں
اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی
مری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں
بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی
خیالوں میں ہمیشہ اس غزل کو گنگناتا ہوں
کہ جو کاغذ کے چہرے پر کبھی لکھی نہیں جاتی
وہی رستے وہی رونق وہی ہیں عام سے چہرے
نویدؔ آنکھوں کی لیکن پھر بھی حیرانی نہیں جاتی
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے
فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے
کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے
جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے
کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
بدلتے موسموں پہ اپنی امیدیں نہ رکھو
دن بارشوں کے بڑے مختصر ہوا کرتے ہیں
موسم کو بھی میری خبر ہو شاید
میری طرح وہ بھی آج ٹوٹ کے برسا
سہمی ہوئی ہے جھونپڑی بارش کے خوف سے
محلوں کی آرزو ہے کہ برسات تیز ہو
بے گھر میں ہوا جب سے تو آرام ہے مجھ کو
برسات میں چھت گرنے کا اب ڈر نہیں رہتا
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮕﺎﮌﯼ ﺗﮭﯽ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﺣﺸﺮ ﺗﮏ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ
سب کچھ مل جاتا ہے اس دنیا میں
فقط وہ شخص نہیں ملتا جس سے محبت ہو
سب کچھ مل جاتا ہے اس دنیا میں
فقط وہ شخص نہیں ملتا جس سے محبت ہو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain