اُداسیاں کھا گئی شباب کو
اُداسیاں کھا گئی شباب کو حسرت
ورنہ ہم بھی بہت دلکش ہوا کرتے تھے
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﮨﻮﻧﺎ
ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﮨﻮﻧﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﯿﮟ
سنا ھے وہ مجھ سے بچھڑ کے میرے جیسا ہوگیا ھے
سنا ھے وہ مجھ سے بچھڑ کے میرے جیسا ہوگیا ہے
بولتا کم ہے،، سنتا۔۔ زیادہ ہے، کہتا کچھ بھی نہیں
دل درد سے نڈھال ہے
دل درد سے نڈھال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
تم سے مرا سوال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
اب بھی عذاب بن کے گزرتے ہیں رات دن
اب بھی یہی ملال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
جانا ہی تھا تو پہلے ہی عادت نہ ڈالتے
آخر یہ کیسی چال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
کانٹوں کے جیسا مجھ کو لگے میرا ہر لباس
کاندھوں پہ غم کی شال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
تم تھے تو کیسے راستے کٹتے تھے خود بخود
اب راستوں میں جال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
سب کچھ ہے میرے پاس، الم، دکھ، اداسیاں
بس اک خوشی کا کال ہے، تم کیوں چلے گئے؟
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﮨﺮ ﺧﻮﺍﺏِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
ﺗﻌﺒﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﺳﺐ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﯿﮟ
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
وفا ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ
ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﮨﺮ ﺯﻟﻒ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ
ﺯﻧﺠﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮐﮩﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺟﮍﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺗﺎﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
دردِ جفا
جنوبی عشق سے بھی بالاتر ہے محبت
نہ تقاضۂ وفاداری نہ اداۓ جفا کاری۔۔۔
دل تڑپتا ہے اک زمانے سے
آ بھی جاؤ کسی بہانے سے
بن گئے دوست بھی میرے دشمن
اک تمہارے قریب آنے سے
جب اپنا تمہیں بنا ہی لیا
کون ڈرتا ہے پھر زمانے سے
آپ بھی دنیا سے دشمنی لے لو
دونوں مل جائیں اس بہانے سے
چاہے سارے جہان مٹ جائیں
مگر عشق مٹتا نہیں مٹانے سے
یہ کون شخص ہے اِس کو ذرا بلاؤ تو سہی
یہ کون شخص ہے اِس کو ذرا بلاؤ تو سہی
یہ میرے حال پہ کیوں مُسکرا کے گزرا ہے
حقیقت
وہ جومحبت میں ہوۓ بےوفا تو
تم بھلا درد سے مرے کیوں نہیں
بُرا وقت
دل سے نکلتی نہیں ہے شام جُدائی والی
تم تو کہتے تھے کہ بُرا وقت گُذر جاتا ہے
اے چمن
اے چمن تیری باہوں میں جم غفیر تھا یاد ہے مجھے
ہاں ان کا کفن لیرولیر تھا یاد ہے مجھے
تیرے قائد کی باطل کو وہ للکار یاد ہے مجھے
تیرے اپنون کی وہ آہ وپکار یاد ہے مجھے
سرحد پر کھڑے تیرے جوان کی
تیری آغوش میں سوئے قربا ن کی
چھلنی سینا کراکے، پھر بھی خوش ہے وہ
کہ پا گیا ہے رتبہ شھادت کا یاد ہے مجھے
عندلیب کی آہ فکاں تیری ڈالیوں پر
ہان شا ہین کی پرواز بھی ہے تیرے آسمانوں پر
سلام ہے میرا تیری استقامت وجلالی کو
کہ اونچا رکھا ہے اب تک پرچم و ہلالی کو
چیر کے رکھا تھا ظالموں نے تیرے مقبول کو
ہاں کے اس نے بھی اونچا رکھا تیری تنویر کو
کوئی اپنا اداس ہے---
کوئی اپنا اداس ہے
میں کیسے خوشی مناؤں
میری آنکھوں پہ اختیار نہیں
میں کیسے نہ آنسو بہاؤں
وہ جلد باز خفا ہو کے چل دیا
وہ جلد باز خفا ہو کے چل دیا
ورنہ تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا
واللہ کیا کشش تھی کہ مت پوچھیئے صاحب
مجھ سے یہ دل لڑ پڑا ، مجھے یہ شخص چاہئیے
واللہ کیا کشش تھی کہ مت پوچھیئے صاحب
مجھ سے یہ دل لڑ پڑا ، مجھے یہ شخص چاہئیے
یہ بات تو فکر کی ہے کہ تو غم میں ہے
یہ غم تو تجھے خوش رہنے نہیں دے گا
مانا کہ تیرا دیدار میسر نہیں مجھے
پر
ساتھ رہنے کو تیرا تصور ہی کافی ہے💕
میں بھیجتا رہتا ہوں اسے خالی لفافے
وہ شخص کہیں میرا پتہ بھول نہ جائے
اس سے پوچھو عذاب رستوں کا
جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain