آج زندگی یا دنیاوی کامیابی کے لیئے انگلش زبان کو جس طرح لازم کیا ھوا ھے اگر ھم پھلے کے مسلمانوں کی طرح عربی زبان کو لازم کر لیں تو دین کو ٹھیک سمجھنا بھت آسان ھوگا کیونکہ یہ فطرت ھے جو چیز ٹھیک معنوں میں سمجھ آتی ھے تو ھی ھم اسکو بھتر طور پر عمل کرسکتے ھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار صرف دو حکم دیے ھیں 1نماز قائم کرنا 2قران مجید کو ٹھر ٹھر کے پڑھنااور اس پر غور کرنا بیشک اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ھے اب ھم نماز تو پڑھتے ھیں مگر یہ نھیں جانتے کہ کیا پڑھ رھے ھیں اسی طرح قرآن مجید بھی تو ھم بس سنے سنائے دین پر عمل کرتے ھیں اک کام سمجھ کر اور بندگی اور کام میں نمایاں فرق ھے واللہ علم باالصواب
اسلام کے آنے سے پھلے کے دور کو جاہلیت کا دور کہا جاتاھے ۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے اپنا رسول بناکر اور روشن کتاب دے کر بھیجا جس سے جاہلیت ختم ھوئ لیکن آج ھم موازنہ کریں اس دور سے تو جاہلیت کا دور آج ھے۔اس وقت کے لوگوں میں صرف بت پرستی تھی اور وہ جو بھی انکی رسومات تھی اس پر پابند تھے ۔ کیونکہ روشن کتاب اور کھلی نشانیوں کے باوجود آج کا مسلمان ھر برائ میں مبتلا ھے ان لوگوں کے پاس تو علم نھیں تھا اسلئے وہ جاہل کھلائے لیکن ھمارے کو کس چیز کی کمی ھے جو ھم برائ میں مبتلا ھیں اس دور کے انسان سے بھی بہت زیادہ جاہل ھیں صرف مسلمان ھونا دین یا علم نھیں بلکہ ھمارے اندر کی پاکیزگی علم ھے اور دین کا مقصد وہ معاملات ھیں جو ھم اپنے سے وابستہ لوگوں سے کرتے ھیں اللہ کے حکم کے مطابق 🌺🌺