کامیاب شوہر اور بیوی کی تعریف یہ ھے کہ دونوں ایک دوسرے کے فکری رفیق بن جائے نہ کہ جسمانی معنوں میں لو پارٹنر یا ھاؤس پارٹنر اور یہ حقیقت ھے کہ دو شخص ایک دوسرے کے لیے کامیاب فکری رفیق اس وقت بن سکتے ھیں کہ جب دونوں مختلف انداز میں سوچنے کی صلاحیت رکھتے ھوں۔کسی نے درست طور پر کہا ھے کہ جب ھر شخص ایک ڈھنگ پر سوچے تو کوئ بھی زیادہ نھیں سوچتا عورت اور مرد کے دماغ کی الگ الگ بناوٹ دونوں کو اس قابل بناتی ھے کہ وہ ایک دوسرے کے کامیاب فکری رفیق بن سکیں اور یہ مقصد بلاشبہ صنفی نابرابری(Gender Inequality) کے ذریعے حاصل ھوتا ھے نا کہ صنفی برابری (Gender Equality) کے زریعے۔۔۔. 🌺🌺🌺
صحیح بات یہ ھے کہ عورت اور مرد رتبہ کے اعتبار سے یکساں ھیں لیکن استعداد کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے مختلف حیاتیات اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ھے کہ عورت اور مرد دونوں کی ساخت مختلف ھے مثلاً مرد کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج ھوتا ھے جب کہ عورت کا حال یہ ھے کہ وہ نسبتاً ایموشنل ھوتی ھے مرد جسمانی اعتبار سے مضبوط ھوتا ھے اور عورت اس کے مقابلے میں نازک ھوتی ھے تحقیقات کے دوران دونوں صنفوں کے درمیان بھت با معنی فرق دریافت ھوا ھے وہ یہ کہ مرد کا دماغ واحد رخی ھوتا ھے اور عورت کا دماغ کئ رخی ھوتا ھے اس فرق کی وجہ سے یہ ممکن ھوتا ھے کہ زندگی میں کامیابی کے دو مختلف پہلوؤں کی رعایت ھو سکے۔ زندگی میں دونوں قسم کے رول کی ضرورت ھوتی ھے فطرت نے تقسیم کار کے اصول پر ایک رول مرد کو دیا اور دوسرا عورت کو۔
حقیقت یہ ھے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان نابرابری دونوں صنفوں کے درمیان فرق خود تخلیق کا حصہ ھے وہ کسی تعصب ظلم یا زیادتی کا نتیجہ نھی تحقیق یہ ثابت کرتی ھے کہ دونوں کا جینٹک کوڈ ایک دوسرے سے مختلف ھے گویا مرد اور عورت کے درمیان فرق کا سبب سوشل حالات نھیں ھیں بلکہ اسکا سبب خود فطرت کا تخلیقی نظام ھے اصل یہ ھے کہ زندگی کا نظام کو بخوبی طور پر چلانے کے لئے خالق نے یہ طریقہ رکھا ھے جو کہ عورت اور مرد مل کر زندگی کی گاڑی چلائے اس معاملے میں عورت اور مرد کو جو رول ادا کرنا ھے۔اسکی بھترین صورت یھی تھی کہ دونوں میں الگ الگ صلاحیت رکھی جائے۔دونوں کے اندر اگر ایک ھی صلاحیت ھوتی تو وہ اپنا رول بھتر طور پر ادا نھیں کرسکتے تھے۔
حقیقت یہ ھے کہ سماج میں نا برابری ھونا ایک رحمت ھے یہ نا برابری لوگوں میں چیلنج کا سبب بنتا ھے یہ چیلنج لوگوں کو متحرک کرتا ھے اور ترقی کی طرف لے جاتا ھے یہی وجہ ھے کے نا برابری کبھی یکساں حالت میں نھیں رھتی وہ ھمیشہ بدلتی رھتی ھے آج کا نابرابر کل کا برابر ھوتا ھے یھی معاملہ اس چیز کا ھے جس کا خوبصورت نام صنفی برابری((Gender Equality) رکھا گیا پچھلے دو سو سال سے سے صنفی برابری کو قائم کرنے کے لیے طوفانی تحریکیں چل رھی ھے مگر عملاً یہ تحریکیں پوری طرح ناکام ھیں اسکا سبب یہ ھے کہ یہ نظریہ انتھائی حد حد تک غیر عملی ھے کیونکہ فطرت نے عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے مختلف بنایا ھے ایسی حالت میں کوئ انسانی کوشش اس فطرتی نظام کو بدلنے پر قادر نھیں ھوسکتی
ھسٹری آف ٹھاٹ بتاتی ھے کہ پچھلے پانچ ھزار سال کے دوران جتنے بھی ریفارمز اٹھے سب کا مشترک نشانہ یہ تھا کہ سماجی برابری اقتصادی برابری سیاسی برابری وغیرہ مگر تمام مصلحین بظاہر کامیابی کے اصل مقصد کے حصول میں مکمل ناکام رھیں۔ کارل مارکس کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود اسکے متبعین سماج میں برابری لانے میں ناکام رھے۔ زان زوک روسو۔ بظاہر آپنی ساری کامیابی کے باوجود سماج میں برابری لانے میں ناکام رھا ۔ مہاتما گاندھی۔کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ھوئی مگر ان کی تحریک ملک کے اندر سماجی برابری قائم نا کر سکی۔ اس عمومی ناکامی کا سبب یہ ھے کہ یہ تمام ریفارمز ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کرتے رہے سماج میں نا برابری کوئی برائی نھیں وہ فطرت کا قانون ایک عالمی قانون ھے
🌺🌺🌺 عورت اور مرد کا فرق۔ 🌺🌺🌺 گلاب کا پھول قدرت کا آک حسین تحفہ ھے مگر اس کے ساتھ کانٹے بھی ھیں۔اگر کچھ لوگ یہ کھیں کی کانٹا غیر مطلوب چیز ھے اسلئے ھمیں چاھیے کانٹے کو گلاب سے ختم کردیں۔ تو اس مقصد کو لے کر پودے کو کانٹوں کو ختم کرنا شروع کریں تو ھزاروں سال بعد بھی ایسا کرنے میں ناکام رھے گے ۔ بغیر کانٹے کے گلاب کی کوششیں تو کسی نے نھیں کی البتہ اس قسم کی کوششیں کم از کم پانچ ھزار سال سے جاری ھے دو انسان کے درمیان سے نا (Inequality) کو ختم کرنا مگر جیسا کہ معلوم ھے اس قسم کی کوششیں ناکام رھی۔