یہ بارشیں بھی تم سی ہیں جو برس گئیں تو بہار ہیں جو ٹھہر گئیں تو قرار ہیں کبھی آ گئیں یونہی بے سبب کبھی چھا گئیں یونہی روز و شب کبھی شور ہے کبھی چپ سی ہیں یہ بارشیں بھی تم سی ہیں کبھی بوند بوند میں گم سی ہیں یہ بارشیں بھی تم سی ہیںHappy rain morning
اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی شہر بھر میں میری رسوائی ہوئی حسن کو کوئی بھی دے پایا نہ مات جب ہوئی عاشق کی پسپائی ہوئی دیکھنے کو کچھ نہیں تھا گر یہاں چشم بینا کیوں تماشائی ہوئی اس نے پوچھا میرے آنے کا سبب میں نے یہ جانا پذیرائی ہوئی التجا دہرا رہا ہوں پھر وہ جوشؔ جو ہے لاکھوں بار دہرائی ہوئی