شاعری منع ، زُباں بند ، مُحبّت سے گُریز
اُس نے تشخیص سے پہلے میرے پرہیز لِکھے
🖤
سیاہ شب سے ابھی محوِ انتقام ہیں کیا ؟
چراغ ، دیکھنا اب بھی اسیرِ بام ہیں کیا ؟
ہر ایک رنگ کی وحشت ہمیں عطا کی ہے
ہماری ذات پہ خوشیوں کے پل حرام ہیں کیا ؟
کوئی سبق نہیں سیکھا ہے فِیل والوں سے
یہ لوگ آج بھی ویسے ہی بے لگام ہیں کیا ؟
ذرا سی چوٹ پہ آنسو بہانے لگ جاؤں
گُہر یہ اتنے ہی سستے ہیں ؟ اتنے عام ہیں کیا ؟
میں کتنے دشمنوں میں گھر چکا ہوں ، حیرت ہے
کہاں سے آ گئے یہ لوگ ؟ ان کے نام ہیں کیا
🖤
مسکراہٹوں میں چھپے ہیں کتنے زخم
جنہیں دعائیں دیں، وہی بددعا دے گئے
محبتوں کے بھیس میں زہر پلایا
یقین ، ہنستے چہروں کو بھی کھا گئے
🖤
شب و روز کوچ کیۓ جاتے ہیں لوگ
یہ تہہ خاک آخر تماشا کیا ہے؟؟
🖤
ہم بھی تو سخت نارآض ہیں خود سے اب،
ہم بھی اپنے جنآزے نہیں آئیں گے_!
🖤
ہــم کو نَاشَـاد رَکـھ، کہ آسُــودہ
مَاجـرا سَب تِـری خُوشــی کا ہے
وہ عَداوت کــریں تو بِـــسم اللّٰہ
اُن سے رشـتہ تو دوســتی کا ہے
موت تو ایک بے ضَــــرر شِـے ہے
گھاؤ جو بھی ہے، زِندگـی کا ہے
🖤
خواب جو مرجاۓ تو کہاں دل سلامت بچتے ہیں!
💔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain