- ایسی حساس طبیعت کو لگے آگ میاں!!
" آدمی روز کوئی زخم نیا کھاتا پھرے -!
🖤
ہر سانس اک قرض ہے، جو خاموشی سے ادا کرنا ہے
زندگی کا راز یہی ہے — جینا، سیکھنا، پھر فنا ہونا ہے
🖤
زندگی جس طرح سے چلتی ہے
ایسا لگتا ہے جام ہے گاڑی
میں نے سر رکھ دیا ہے پٹڑی پر
اب تو تیرا ہی کام ہے گاڑی
تھک بھی جاؤں تو چلتا رہتا ہوں
چلتے رہنے کا نام ہے گاڑی،
🖤
کُھلی فضائیں دکھاتا تھا مجھ کو پھر اک روز
کسی نے اُس کو سکھایا کہ اِس کے پر کاٹو
پنپ رہی ہے بغاوت سو تم پہ واجب ہے
ہماری آنکھیں نکالو ، ہمارے سر کاٹو
🖤
شاعری منع ، زُباں بند ، مُحبّت سے گُریز
اُس نے تشخیص سے پہلے میرے پرہیز لِکھے
🖤
سیاہ شب سے ابھی محوِ انتقام ہیں کیا ؟
چراغ ، دیکھنا اب بھی اسیرِ بام ہیں کیا ؟
ہر ایک رنگ کی وحشت ہمیں عطا کی ہے
ہماری ذات پہ خوشیوں کے پل حرام ہیں کیا ؟
کوئی سبق نہیں سیکھا ہے فِیل والوں سے
یہ لوگ آج بھی ویسے ہی بے لگام ہیں کیا ؟
ذرا سی چوٹ پہ آنسو بہانے لگ جاؤں
گُہر یہ اتنے ہی سستے ہیں ؟ اتنے عام ہیں کیا ؟
میں کتنے دشمنوں میں گھر چکا ہوں ، حیرت ہے
کہاں سے آ گئے یہ لوگ ؟ ان کے نام ہیں کیا
🖤
مسکراہٹوں میں چھپے ہیں کتنے زخم
جنہیں دعائیں دیں، وہی بددعا دے گئے
محبتوں کے بھیس میں زہر پلایا
یقین ، ہنستے چہروں کو بھی کھا گئے
🖤
شب و روز کوچ کیۓ جاتے ہیں لوگ
یہ تہہ خاک آخر تماشا کیا ہے؟؟
🖤
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain