اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم
دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب
لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ ، ظلم اور دوسروں کے حقوق کھانے سے فاسد نہیں ہوتے۔ لوگوں کو ایسا دین ہاتھ آگیا ہے جو صرف بحث و مباحثہ کرنے کے لئے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔
مولانا وحید الدین خاں~
جب تُمہارا نفس اور شیطان تمہیں وسوسے دِلوائے کہ ؛ تُمہاری دُعائوں کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا تو خود سے وہی کہو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ ؛ میں صرف اپنے پروردگار کو پُکارتا رہوں گا ، مُجھے یقین ہے کہ ؛ میں اپنے پروردگار سے مانگ کر کبھی محروم نہ رہوں گا!۔
( سورة مریم ۴۸ )
چاند ایسا حسین، کہ چُھونے کو دل چاہے۔
مرے اندر سمندر کی سی گہرائی ہے
دریاؤں سی شورش ہے
یہ صحراؤں سی پہنائی ہے
طوفانوں سی طاقت ہے
اسی کو شانت رکھنے کے لیے ہر دم
میں کمرے میں پڑا دیوار تکتا ہوں
مجھے جس شے سے بھی تحریک ملتی ہو
میں اس سے دور رہتا ہوں
مگر برسوں ریاضت بعی مرے کچھ کام نہ آئی
وه کیسی جادوئی آنکھیں ہیں کہ سینہ دہکتا ہے
میں چاہے برف کی قاشیں نگل جاؤں
مجھے راحت نہیں ملتی
سرمد سروش~
"آتش کا پرکالہ"
یہ کیسی لادوا سوزش ہے سینے میں
زباں پر برف کی قاشوں کو پگهلاؤں
بھلے مینتهول مائع کی بھری شیشی غٹک جاؤں
مجھے راحت نہیں ملتی
مرے دل کی جگہ آتش کا پرکالہ دهڑکتا ہے
ہر اک شریان سے پگھلا ہوا لاوا گزرتا ہے
عجب وحشت کا عالم ہے
کہیں میں کچھ بھیانک ہی نہ کر جاؤں
جبلی خوف بھی میری نگہبانی نہیں کرتا
تمہیں کہ دو کہ ایسے میں مجھے کیا روک پاۓ گا
۔ ۔ ۔
یہ جو آئینہ ہے ___ دیکھوں تو خلا دِکھتا ہے
رات ٹوٹ پڑتی ہے جب سکوت زنداں پر
تم مرے خیالوں میں چھپ کے گنگناتے ہو
احمد ندیم قاسمی~
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
یہ خراباتیان خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
جون ایلیا~
بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
یہ دِل کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے
بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر
چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے
ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے
دِیے کی لو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے
تمام شب جاگتی خموشی نے اُس کو سوچا
وہ زیرِ لب گیت کوئی گنگنائے تو نیند آئے
بَس ایک آنسو بہت ہے مُحسنؔ کے جاگنے کو
یہ اِک سِتارہ، کوئی بُجھائے تو نیند آئے
محسن نقوی~
مری دنیا بہت تیزی سے خالی ہو رہی ہے
عجب مشکل ہے میری
کسی کی آنکھ میں ہے کون سا چہرہ مرا یہ بھول جاتا ہوں
مگر الزام دینا حافظے کو بھی غلط ہوگا
یہ ممکن ہی نہیں ہے کوئی اپنے سارے چہرے یاد رکھ پائے
نتیجہ یہ کہ ہر جاتے ہوئے لمحے کے ہمراہ
مری تنہائی بڑھتی جا رہی ہے
میں اپنا ایک چہرہ بھولتا ہوں
اور تعلق ختم ہو جاتا ہے کوئی
شارق کیفی~
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنس الفت کا طلب گار ہوں میں
عشق ہی عشق ہے دنیا میری
فتنۂ عقل سے بیزار ہوں میں
زندگی کیا ہے گناہ آدم
زندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں
اسرار الحق مجاز~
دنیا کا سب سے مشکل کام خود کو تسلی دینا ہے کیونکہ اس سے آپکی تنہائی کا احساس اور بھی شدت اختیار کرتا ہے۔
نسیم خان~
اپنی لکھی پرانی پوسٹیں پڑھتے پڑھتے اپنا گزرا وقت میں دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا۔
مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ بس اچھا ہی محسوس کر سکتے ہیں۔
خاموشی کی زبان پہاڑوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔
پاکستان نہ نور ہے اور نہ خدا کے رازوں میں سے کوئی راز ہے۔ یہ لاقانونیت، بدانتظامی، کرپشن، منہ زور اداروں، بیروزگاری اور بھیک کے عذابوں میں مبتلا دنیا کا ایک خطہ ہے۔ ہماری بربادی میں ان روحانی پیشن گوئیوں اور جملے بازیوں نے اہم کردار ادا کیا ھے۔
صولت پاشا~
آئیے آج اسی سوچ کو پختہ کرلیں __ بے حسی حد سے گزرتی ہے تو کیا لگتی ہے
ارتضیٰ نشاط~
"تین منظر"
تصور
شوخیاں مضطر نگاہ دیدۂ سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگ غازۂ رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مئے گلنار میں
سامنا
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں افسانے مہتاب تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
رخصت
فسردہ رخ لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں۔
فیض احمد فیض~
کوئی حاصل نہ تھا ، آرزو کا مگر
سانحہ یہ ہے، اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اِس مسافت میں ، بے آرزو
تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیاء~
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain