Damadam.pk
mibeesah's posts | Damadam

mibeesah's posts:

mibeesah
 

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پار چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دل دار نظر کی شبنم

mibeesah
 

دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ترے پہلو کے سمن اور گلاب

mibeesah
 

لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ ، ظلم اور دوسروں کے حقوق کھانے سے فاسد نہیں ہوتے۔ لوگوں کو ایسا دین ہاتھ آگیا ہے جو صرف بحث و مباحثہ کرنے کے لئے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لئے۔
مولانا وحید الدین خاں~

mibeesah
 

جب تُمہارا نفس اور شیطان تمہیں وسوسے دِلوائے کہ ؛ تُمہاری دُعائوں کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا تو خود سے وہی کہو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ ؛ میں صرف اپنے پروردگار کو پُکارتا رہوں گا ، مُجھے یقین ہے کہ ؛ میں اپنے پروردگار سے مانگ کر کبھی محروم نہ رہوں گا!۔
( سورة مریم ۴۸ )

mibeesah
 

چاند ایسا حسین، کہ چُھونے کو دل چاہے۔

mibeesah
 

مرے اندر سمندر کی سی گہرائی ہے
دریاؤں سی شورش ہے
یہ صحراؤں سی پہنائی ہے
طوفانوں سی طاقت ہے
اسی کو شانت رکھنے کے لیے ہر دم
میں کمرے میں پڑا دیوار تکتا ہوں
مجھے جس شے سے بھی تحریک ملتی ہو
میں اس سے دور رہتا ہوں
مگر برسوں ریاضت بعی مرے کچھ کام نہ آئی
وه کیسی جادوئی آنکھیں ہیں کہ سینہ دہکتا ہے
میں چاہے برف کی قاشیں نگل جاؤں
مجھے راحت نہیں ملتی
سرمد سروش~

mibeesah
 

"آتش کا پرکالہ"
یہ کیسی لادوا سوزش ہے سینے میں
زباں پر برف کی قاشوں کو پگهلاؤں
بھلے مینتهول مائع کی بھری شیشی غٹک جاؤں
مجھے راحت نہیں ملتی
مرے دل کی جگہ آتش کا پرکالہ دهڑکتا ہے
ہر اک شریان سے پگھلا ہوا لاوا گزرتا ہے
عجب وحشت کا عالم ہے
کہیں میں کچھ بھیانک ہی نہ کر جاؤں
جبلی خوف بھی میری نگہبانی نہیں کرتا
تمہیں کہ دو کہ ایسے میں مجھے کیا روک پاۓ گا
۔ ۔ ۔

mibeesah
 

یہ جو آئینہ ہے ___ دیکھوں تو خلا دِکھتا ہے

mibeesah
 

رات ٹوٹ پڑتی ہے جب سکوت زنداں پر
تم مرے خیالوں میں چھپ کے گنگناتے ہو
احمد ندیم قاسمی~

mibeesah
 

بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں
سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے
یہ خراباتیان خرد باختہ
صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
ہے غنیمت کہ اسرار ہستی سے ہم
بے خبر آئے ہیں بے خبر جائیں گے
جون ایلیا~

mibeesah
 

بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے
یہ دِل کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے
بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر
چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے
ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے
دِیے کی لو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے
تمام شب جاگتی خموشی نے اُس کو سوچا
وہ زیرِ لب گیت کوئی گنگنائے تو نیند آئے
بَس ایک آنسو بہت ہے مُحسنؔ کے جاگنے کو
یہ اِک سِتارہ، کوئی بُجھائے تو نیند آئے
محسن نقوی~

mibeesah
 

مری دنیا بہت تیزی سے خالی ہو رہی ہے
عجب مشکل ہے میری
کسی کی آنکھ میں ہے کون سا چہرہ مرا یہ بھول جاتا ہوں
مگر الزام دینا حافظے کو بھی غلط ہوگا
یہ ممکن ہی نہیں ہے کوئی اپنے سارے چہرے یاد رکھ پائے
نتیجہ یہ کہ ہر جاتے ہوئے لمحے کے ہمراہ
مری تنہائی بڑھتی جا رہی ہے
میں اپنا ایک چہرہ بھولتا ہوں
اور تعلق ختم ہو جاتا ہے کوئی
شارق کیفی~

mibeesah
 

خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنس الفت کا طلب گار ہوں میں
عشق ہی عشق ہے دنیا میری
فتنۂ عقل سے بیزار ہوں میں
زندگی کیا ہے گناہ آدم
زندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں
اسرار الحق مجاز~

mibeesah
 

دنیا کا سب سے مشکل کام خود کو تسلی دینا ہے کیونکہ اس سے آپکی تنہائی کا احساس اور بھی شدت اختیار کرتا ہے۔
نسیم خان~

mibeesah
 

اپنی لکھی پرانی پوسٹیں پڑھتے پڑھتے اپنا گزرا وقت میں دیکھ رہا تھا، سن رہا تھا۔
مجھے اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ بس اچھا ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

mibeesah
 

خاموشی کی زبان پہاڑوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔

mibeesah
 

پاکستان نہ نور ہے اور نہ خدا کے رازوں میں سے کوئی راز ہے۔ یہ لاقانونیت، بدانتظامی، کرپشن، منہ زور اداروں، بیروزگاری اور بھیک کے عذابوں میں مبتلا دنیا کا ایک خطہ ہے۔ ہماری بربادی میں ان روحانی پیشن گوئیوں اور جملے بازیوں نے اہم کردار ادا کیا ھے۔
صولت پاشا~

mibeesah
 

آئیے آج اسی سوچ کو پختہ کرلیں __ بے حسی حد سے گزرتی ہے تو کیا لگتی ہے
ارتضیٰ نشاط~

mibeesah
 

"تین منظر"
تصور
شوخیاں مضطر نگاہ دیدۂ سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگ غازۂ رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مئے گلنار میں
سامنا
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں افسانے مہتاب تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
رخصت
فسردہ رخ لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں۔
فیض احمد فیض~

mibeesah
 

کوئی حاصل نہ تھا ، آرزو کا مگر
سانحہ یہ ہے، اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اِس مسافت میں ، بے آرزو
تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیاء~