ہزار جذبوں سے مُعتبر ہے اداس آنکھوں سے مسکرانا۔
اور مارچ کا مہینہ بھی آگیا۔
انسان اپنے حالات کا نتیجہ ھے وہ جن حالات کا حامل ھے وہی اس کی طبیعت اور جبلت بن جاتے ہیں۔
ابن خلدون~
ہم تم سے چشم رکھتے تھے، دلدار! یاں بہت
سو، التفات کم ہے، دل آزاریاں بہت
دیکھیں تو کیا دکھائے یہ افراطِ اشتیاق
لگتی ہیں تیری آنکھیں ہمیں پیاریاں بہت
جب تک ملی جلی سی جفائیں تھیں، اُٹھ سکیں
کرنے لگے ہو اب تو ستم گاریاں بہت
آزار میں تو عشق کے جاتا ہے بھول جی
یوں تو ہوئی تھیں یاد میں، بیماریاں بہت
شکوہ خراب ہونے کا کیا چاہنے میں میر!
ایسی تو اے عزیز! ہیں یاں خواریاں بہت
میر تقی میر~
راحتِ دل، جانِ نظر ہوں گے مناظر۔
The bottom line is you really can’t count on people to motivate & build you up in life. The truth is everyone is so caught up in their own lives that they have little or no time for others. Learn to encourage yourself but remember not to leave the Almighty out of the equation.
~MUFTI MENK🧡
یہ کون دل کے اندھیروں سے شام ہوتے ہی
چراغ لے کے گزرتا دکھائی دیتا ہے
صہبا اختر~
دل میں اترتی ہوئی ایک حسین شام۔
🍃🌸
میرا سر چکرا رہا ہے۔
.-.
CHUP NE AISI BAAT KAHI
KHAMOSHI MEIN SUN BEITHAY
JANMON JO NAA BEET SAKAY
HUM VO ANDHERE CHUN BEITHAY
_MEHRAM🎶
سوچو اور سوچنے کی نیک نیت ڈالو کہ دوسرے جو کچھ سوچ رہے ہیں وہ بھی سچ ہوسکتا ہے نہ تم آسمان سے اترے ہو اور نہ تمہارے حریف۔
جون ایلیا~
رنگ کب تک کسی چہرے کو سجا کر رکھیں؟
مگر مجھ کو یہ غم ہے
کہ جب میں مروں گا
یہ سب چاند ، تارے ، بہاریں ، خزائیں
بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
تیرا حُسن ، دنیا کے رنگیں فسانے
یہ سب مل کر زندہ رہیں گے
فقط میری اشک آلود ، آنکھیں نہ ہوں گی
منیر نیازی~
وقت گزرا ہوا گزارا ہے۔
بڑے سکون سے ہر شخص اک عذاب میں ہے۔
PROBLEM IS, NOBODY CAN CONTROL THE DREAMS THEY HAVE.
-NARCOS📺
تب ہم دونوں وقت چرا کر لاتے تھے
اب ملتے ہیں۔ ۔
جب بھی فرصت ہوتی ہے
جاوید اختر~
سورج تھا میرے سر پے مگر رات ہوگئی۔
ضبط کا عہد بھی ہے شوق کا پیمان بھی ہے
عہد و پیماں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے
درد اتنا ہے کہ ہر رگ میں ہے محشر برپا
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
فیض احمد فیض~
اُس کو تشبیہ دیتا بھی تو کس سے میں
لفظ تھے ہی نہیں
میں نے تھک کر لُغت بند کی اور پھر
دیر تک کھڑکی کھولے کھڑا
سوچتا ہی رہا
سوچتے سوچتے زہن تک تھک گیا
اور تھک ہار کر میں نے اُس سے کہا
حُسن کے تاجور
باعثِ شاعری
کوئی شے تیری تشبیہ ہے ہی نہیں
اُس کی تصویر کے رُو بہ رُو دیر تک ہاتھ جوڑے ہوئے
اپنی کم مائیگی اور ادراک پر جُملے کستا رہا
اور ندامت سے نظریں جُھکائے کھڑا
اُس کو پھولوں سے تشبیہ دیتے ہوئے
رات میں دیر تک خود بھی ہنستا رہا
میثم علی آغا~
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain