ہم عموماً کسی شخص سے نہیں، اس شخص کو لے کر اپنے تراشے ہوۓ تخیل سے محبت کرتے ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ~
For every pain you endure,
For every fear that grips your heart,
For every worry that keeps you awake,
For every loss that you grieve over,
For anything & everything that you can’t handle,
Leave it to the Lord of the Worlds.
He’s the best disposer of our affairs.
~MUFTI MENK🧡
کیا پوسٹ کیا جائے ___ مواد ہی نہیں مل رہا۔
°-°
ہم ہی فارغ نہ ہوئے موسمِ تنہائی سے۔
دو حرف تسلّی کے جس نے بھی کہے، اُس کو
افسانہ سُنا ڈالا، تصویر دکھا ڈالی
خورشید رضوی~
دل سہما ہوا سا ہے
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
متاعِ دل، متاعِ جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیلِ ماہ و سال میں اب تک
سبھی کچھ تو نہ بہہ جائے
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے
کچھ تو رہ جائے
جون ایلیاء~
جہاں پہ تم سانس لے رہی ہو___خوشی کہیں دُور اُن زمینوں پہ رہ گئی ہے۔
تعلق میں اخلاصِ قلب معتبر ہے، کثرتِ ملاقات نہیں۔
دلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زلف بکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
فیض احمد فیض~
زنداں کی ایک شام۔ ۔
پرانے کام پہ جانے کا سوچ کر خوش ہوں
نئے لباس پہ خوشبو نئی لگاتے ہوئے
ردھم بناتی ہوئی انگلیاں وہ ٹیبل پر
میں رو رہا تھا کوئی گیت گنگناتے ہوئے
تمام رات خدا سے مذاکرات کے بعد
فقیر ہسنے لگے جھولیاں اٹھاتے ہوئے
جہانزیب ساحر~
We are all facing the storms of life but we are not all in the same boat. Some have fancy yachts and vessels. Others are rowing in canoes. Some can’t keep afloat and are drowning. Be kind to those who cross your path. You’ve no idea what they’re going through.
~MUFTI MENK🧡
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
انکو کھو کر میری جانِ جاں
عمرِ بھر نہ ترستے رہو
🎶
کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور
یک بیک بادہء احمر سے دہک جاتا ہے
کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر
گیت بنتا رہوں، بیٹھا رہوں تیری خاطر
یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں
نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا
فیض احمد فیض~
"مرے ہمدم، مرے دوست"
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن
میری دلجوئی، مرے پیار سے مت جائے گی
گرمرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اُجڑا ہوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست
روز و شب، شام و سحر میں تجھےبہلاتا رہوں
میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں،
آبشاروں کے، بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں
' جاری ہے '
کبھی تیغِ تیز سپرد کی، کبھی تحفۂ گلِ تر دیا
کسی شاہ زادی کے عشق نے مرا دل ستاروں سے بھر دیا
ثروت حسین~
پٹھوں پر بوجھ، سر درد، بھاری سر کے ساتھ دن کا آغاز۔
جہاں تک میں سوچ رکھتا ہوں ایک اندازے سے، ہمارا مستقبل ان حال کے دنوں سے کہی زیادہ ہمارے خلاف ہو جائے گا۔ چاہے ہم اپنے آج کو جتنا بھی اچھے سے ترتیب دے کر سمبھالتے رہیں۔
پھر سے ایک بِلا پال لیا۔
DIL BHI NAHI KIYA.. PHER BHI YEH KESAY HOWA-_-
اناللہ واناالیہ راجعون
علم و ادب کا درخشندہ ستارہ ضیاء محی الدین صاحب بھی داغ مفارقت دے گئے۔
اردو کیوں اتنی میٹھی زبان ہے ضیاء محی الدین صاحب کو سنیں تو جواب ملے گا۔ کیا بہترین لہجہ اور آواز تھی۔
صحیح معنوں میں اردو ادب کی چاشنی سے ضیا صاحب نے روشناس کرایا تھا۔
ضیاء صاحب کا لہجہ ادب کا بھرپور عکاس ہوا کرتا تھا۔
اللہ پاک درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین
THANKYOUSIR._.
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain