اداسیوں نے آپ کا, میرا, سب کا در کھٹکھٹانا ہے۔ ۔
گرما گرم زلیبیاں
آرزو ہے کہ میرا قصۂ شوق
آج میرے سوا کہے کوئی
جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصرؔ
کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی
ناصر کاظمی
سانس لینے کی آزادی تو میسر ہے مگر
زندہ رہنے کے لیے انسان کو ”کچھ اور بھی“ درکار ہے
اور اس ”کچھ اور بھی“ کا تذکرہ بھی جرم ہے
احمد ندیم قاسمی~
چھ گھنٹے کی چہل قدمی۔ ۔
زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں مجبوریاں تنہائیاں
کیف~
تم جو پوچھو تو میرے ہر اک حرف کو___کوئی رُتبہ ملے کوئی منصب ملے
WESA HE JANA_PEHCHANA AAJ KA NOVEMBER.
💚
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جان سے گزر گۓ
راہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا
فیض احمد فیض (۲۰ نومبر)
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
امیر مینائی~
اک یقیں پرور گماں اور اک حیات آمیز خواب
جیسے کوئی آئے گا اور الجھنیں لے جائے گا
عاصم ندیم عاصی~
درد اپنے مالک کو تادیب کرتا ہے، اسے تطہیر سے سنوارتا ہے، اسے لمبی خاموشی سکھاتا ہے، اسے دور سے وہ چیز دکھاتا ہے جو اس نے قریب سے نہیں دیکھا، اسے دعا سکھاتا ہے، اسے لوگوں سے تنہائی کا احساس دلاتا ہے، اسے اپنے رب سے راحت محسوس کرتا ہے، اور اس کے لیے کافی ہے اس کے ساتھ، بے شک درد اس کے اندر چھپا ہوا رحمت ہے۔
جلال الدین رومی~
اکتوبر کی آخری راتیں
اور مکمل چاند کا آسمان۔ ۔
خزاں کے بیچ میں ،فصلِ بہار کتنی ہے
تمھاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
محبت اور ضرورت
اپنی اپنی سرحدوں میں قید ھیں
دونوں کی دنیائیں الگ ھیں
میں اک دنیا میں ھُوں
اور دوسری دنیا کے خواب آتے ھیں آنکھوں میں۔
ادھوری چاھتیں میری
ادھوری داستاں میری
میرے جذبے ادھورے ھیں
میری خواھش کے پیمانے ادھورے ھیں
محبت کے میرے ھونٹوں پہ افسانے ادھورے ھیں
ادھورے پن کی اِک دنیا میرے چاروں طرف ھے
پھر بھی اپنے دل کی
سب گہرائیوں کے ساتھ
سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ھُوں
میں تم سے پیار کرتا ھُوں
اشفاق حسین~
https://youtu.be/HI2RumdDDz0?si=AZ1790_yK0dYOcT6
ایک کہانی سے جوڑے ہوۓ ۱۴ خواب ۔ ۔
💚🌸
جب کوئی نظم ایک بار مکمل لکھی لی جائے
تو پھر اس میں
لفظوں کا ہیر پھیر نہیں ہوتا
پھر ہم اس میں کچھ نہیں بدل سکتے
کوئی بھی لفظ
کسی دوسرے لفظ کی جگہ لے ہی نہیں سکتا
ہم اُس احساس کی ترجمانی کے لئے
کوئی اور متبادل الفاظ استعمال کر ہی نہیں پاتے
سنو پیاری! اسی طرح
تم بھی قدرت کی لکھی گئی اِک مکمل نظم ہو
میاں وقار~
شام ہوئی، خواہش ہوئی۔ ۔
کہ کیوں نا شام کے رنگ دیکھ لئے جائیں، ان لمحوں میں آج وقت گزارا جائے، پاؤں سیڑھیاں چڑھتے چھت پر لے گئے، مگر
جب آنکھیں آسمان کی جانب ہوئی تو وہاں بادل نظر آۓ۔
سیاہ گھنے بادل۔
•۔•
"WE HAVE SUCH A LONG WAY TO GO", SIGHED THE BOY
"YES, BUT LOOK HOW FAR WE'VE COME", SAID THE HORSE.
-THE BOY, THE MOLE, THE FOX AND THE HORSE🎬
https://youtu.be/VN1W0BGvWiA
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain