سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا
طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے
آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے
برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
حدیث ۲۱: امام احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے فرما یاکہ تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟ عرض کی، نہیں ۔ فرمایا: ’’اسے دیکھ لو! کہ اس کی وجہ سے تم دونوں کے درمیان موافقت ہونے کا پہلو غالب ہے۔‘‘ (1)
حدیث ۲۰: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ ایک شخص نے نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں یہ عرض کی کہ انصار یہ عورت سے نکاح کامیرا ارادہ ہے۔ حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ’’اسے دیکھ لو! کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے۔‘‘ (6) یعنی ان کی آنکھیں کچھ بھوری ہوتی ہیں ۔
حدیث ۱۸: صحیح بخاری و مسلم میں عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’ایسا نہ ہو کہ ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ رہے پھر اپنے شوہر کے سامنے اس کا حال بیان کرے،گویا یہ اسے دیکھ رہا ہے ۔‘‘ ( 4)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’خبردار کوئی مرد ثیب عورت کے یہاں رات کو نہ رہے مگر اس صورت میں کہ اس سے نکاح کرنے والا ہو یا اس کا ذی محرم ہو۔‘‘ (5)
حدیث ۱۷: امام احمد و ترمذی و ابو داود نے حضرت اُم سلمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ یہ اور حضرت میمونہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی خدمت میں حاضر تھیں کہ عبداللّٰہ بن اُم مکتوم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ آئے۔ حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے ان دونوں سے فرمایاکہ ’’پردہ کرلو۔‘‘ کہتی ہیں : میں نے عرض کی، یارسول اللّٰہ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) !وہ تو نابینا ہیں ، ہمیں نہیں دیکھیں گے۔ حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: ’’کیا تم دونوں اندھی ہو، کیا تم انھیں نہیں دیکھو گی۔‘‘ (3)
حدیث ۱۵: ابو داودو ابن ماجہ نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ’’اے علی! ران کو نہ کھولو اور نہ زندہ کی ران کی طرف نظر کرو نہ مردہ کی۔‘‘ (1)
حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں ابوسعید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’ ایک مرد دوسرے مرد کی ستر کی جگہ نہ دیکھے اور نہ عورت دوسری عورت کی ستر کی جگہ دیکھے اور نہ مرددوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے اور نہ عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ سوئے۔‘‘ (2)
حدیث ۱۳: ترمذی نے ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’برہنہ ہونے سے بچو، کیونکہ تمھارے ساتھ وہ (فرشتے) ہوتے ہیں جو جدا نہیں ہوتے مگر صرف پاخانہ کے وقت اور اس وقت جب مرد اپنی عورت کے پاس جاتا ہے، لہٰذا ان سے حیا کرو اور ان کا اکرام کرو۔‘‘ (5)
حدیث ۱۴: ترمذی وابو داود نے جرہد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ’’کیا تمھیں معلوم نہیں کہ ران عورت ہے۔‘‘ (6) یعنی چھپانے کی چیز ہے
حدیث ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی، یارسول اﷲ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ! دیور کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایاکہ ’’دیور موت ہے۔‘‘ (4) یعنی دیور کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فتنہ کا زیادہ احتمال ہے۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain