حدیث ۱۱: ترمذی نے جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کی ، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:’’ جن عورتوں کے شوہر غائب ہیں ان کے پاس نہ جاؤ ،کہ شیطان تم میں خون کی طرح تیرتا ہے یعنی شیطان کو بہکاتے دیر نہیں لگتی۔ ہم نے عرض کی، اورحضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے، یارسول اﷲ! ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)۔ فرمایا: اور مجھ سے بھی، مگر اﷲ (عزوجل) نے میری اس کے مقابل میں مدد فرمائی، وہ مسلمان ہوگیا یا میں سلامت رہتا ہوں ۔‘‘ (3) حدیث کے لفظ میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں ۔
حدیث ۸: ابن ماجہ نے عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں میں نے حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی شرم گاہ کی طرف کبھی نظر نہیں کی۔ (6)
حدیث ۹: ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ بروایت بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: اپنی عورت یعنی ستر کی جگہ کو محفوظ رکھو، مگر بی بی سے یا اس باندی سے جس کے تم مالک ہو۔ میں نے عرض کی،یارسول اﷲ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) یہ فرمائیے کہ اگر مرد تنہائی میں ہو ارشاد فرمایا: ’’اﷲ عزوجل سے شرم کرنا زیادہ سزاوار ہے ۔‘‘(1)
حدیث ۷: بیہقی نے حسن بصری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ’’ دیکھنے والے پر اور اُس پر جس کی طرف نظر کی گئی اﷲ (عزوجل) کی لعنت۔‘‘ (5) یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلاعذر قصداً دکھائے۔
حدیث ۸: ابن ماجہ نے عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہتی ہیں میں نے حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی شرم گاہ کی طرف کبھی نظر نہیں کی۔ (6)
حدیث ۵: ترمذی نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ’’عورت عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے، تو اسے شیطان جھانک کر دیکھتا ہے ۔‘‘ (3) یعنی اسے دیکھنا شیطانی کام ہے۔
حدیث ۶: امام احمد نے ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی دفعہ نظر کرے یعنی بلاقصد پھر اپنی آنکھ میچ لے، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کردے گا جس کا مزہ اس کو ملے گا۔‘‘ (4)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و ترمذی و د ارمی نے بریدہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے فرمایاکہ ’’ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ کرو (یعنی اگر اچانک بلاقصد کسی عورت پر نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹالے اور دوبارہ نظر نہ کرے) کہ پہلی نظر جائز ہے اور دوسری نظر جائز نہیں ۔‘‘ (2)
حدیث ۳: صحیح مسلم میں جریر بن عبداﷲ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں : میں نے رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق دریافت کیا۔’’ حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حکم دیا کہ اپنی نگاہ پھیر لو۔‘‘ (1)
حدیث ۲: دارمی نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایا: ’’جس نے کسی عورت کو دیکھا اور وہ پسند آگئی تو اپنی زوجہ کے پاس چلا جائے کہ اس کے پاس بھی ویسی ہی چیز ہے جو اس کے پاس ہے۔‘‘ (5)
حدیث ۱: صحیح مسلم میں جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’ عورت شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے، جب کسی نے کوئی عورت دیکھی اور وہ پسند آگئی اور اس کے دل میں کچھ واقع ہو تو اپنی عورت سے جماع کرے، اس سے وہ بات جاتی رہے گی جو دل میں پیدا ہوگئی ہے۔‘‘ (4)
فرماتا ہے: { وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍؕ-وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۶۰)} (3)
’’اوربوڑھی خانہ نشین عورتیں جنھیں نکاح کی آرزو نہیں ان پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے بالائی کپڑے اتار رکھیں جبکہ سنگار ظاہر نہ کریں اور اس سے بچنا ان کے لیے بہتر ہے اور اﷲ (عزوجل) سنتا جانتا ہے۔‘‘
: { یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)} (1)
’’اے نبی! اپنی ازواج اور صاحبزادیوں اور مومنین کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنے اوپر اپنی اوڑھنیاں لٹکا لیں یہ اس سے نزدیک ترہے کہ(2) وہ پہچانی جائیں گی اور ان کو ایذا نہیں دی جائے گی اوراﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
السلام علیکم و رحمة الله وبركاته
جگہ صدمے کی یارو اب تو "ٹینشن، شاک"لیتے ہیں
کہ "بُوہا" "شٹ" جو کرتے ہیں تو اس کو "لاک" دیتے ہیں..
کرتے تھے ہم کچھ استعمال پہلے مگر ہم اب "یوز" کرتے ہیں
ہوئے ’’آزاد‘‘جب ہم تو ’’ترقی‘‘ کر گئے آخر
جو پینڈو ذہن والے تھے، وہ سارے مر گئے آخر.
قدر نہیں کرتے اپنے ادب کی جو ادیب
وہ لوگ بھی کیا ترقی خاک کرتے ہیں؟
کبھی جو تھا غسل خانہ، بنا وہ "باتھ روم"آخر
بڑھا جو اور اک درجہ، بنا وہ "واش روم"آخر..
کبھی ہم بھی تھے کرتے غسل، "شاور" اب تو لیتے ہیں
کبھی جو پھول چُنتے تھے، "فلاور" اب تو لیتے ہیں
کبھی تو درد ہوتا تھا، مگر اب "پین" ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر اب تو "نالج گین" ہوتا ہے..
"ڈنر" اور "لنچ" ہوتا ہے، کبھی کھانا بھی کھاتے تھے
"بریڈ" پر ہے گزارا اب، کبھی کھابے اُڑاتے تھے..
کبھی ناراض ہوتے تھے، مگر اب "مائنڈ" کرتے ہیں
جو مسئلہ کچھ اُلجھ جائے، "سلوشن فائنڈ" کرتے ہیں..
سنو یہ فخر سے اک راز بھی ہم فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے، مگر اب "واش" کرتے ہیں..
تھا بچوں کے لیے بوسہ مگر اب "کِس" ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب "مِس" ہی کرتے ہیں..
چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب "واک" کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب "ٹاک" کرتے ہیں..
کبھی جو امی ابو تھے، وہی اب "مما پاپا" ھیں
دعائیں جو کبھی دیتے تھے وہ بڈھے سیاپا ہیں..
کچھ لوگ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہیں لیکن میں وہ کچھ بھی نہیں
ان کی باتیں بظاھر بڑی دانشمندانہ ہوتی ہیں لیکن حقیقتا ایکٹنگ اور ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں ہوتی