جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شِہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے
انتظار ہمیشہ رہے گا
بس آواز نہیں دوں گی
گرمیاں کب آ ئینگی😔
نہ ظاہر ہوئی ان سے نہ بیاں ہوئی ہم سے
بس سلجھی ہوئی آ نکھوں میں الجھی رہی محبت🙁
پھر لے لیا کسی نے بریانی کا نام اور بریانی یاد دلا دی😔
چلو اب ٹیکسٹ پوسٹ پر کمنٹس کرتی ہوں جلدی جلدی پوسٹ کرو جسکی پوسٹ فنی ہو گی اور مجھے ہنسی آئی تو اسکی پوسٹ پر کمنٹ کرونگی😁