اس جان نو میں جان اکھاں کہ جانے جہاں اکھاں۔۔ اس شان نو شان اکھاں جس شان تو شاناں سب بنیاں۔۔ کتھے مہر علی کتھے تیری ثنأ گستاخ اکھاں کتھے جا لڑیاں۔۔ ۳۱۳
بے خودی کی زندگی ہم جیا نہی کرتے۔۔ جام چھین کر دوسروں سے پیا نہی کرتے۔۔ انکو محبت ہے تو آ کر اظہار کریں۔۔ پیچھا ہم بھی کسی کا کیا نہی کرتے۔۔ ۳۱۳
کتنا مجبور ہو گیا ہوں میں۔۔ ٹوٹ کے چور ہو گیا ہوں میں۔۔ ۳۱۳
ہمنواہ میرے۔۔ تو ہے تو میری سانسیں چلیں۔۔ بتا دے کیسے میں جیوں گا تیرے بنا۔۔ ۳۱۳
میرے ڈھول جدائیاں دی۔۔ تینوں خبر کیوۓ ہوۓ۔۔ ۳۱۳
لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو۔۔ ۳۱۳
"اے میرے رب میں بے بس ہوں میری مدد فرما" ۳۱۳
نہ تیرا خدا کوی اور ہے۔۔ نہ میرا خدا کوی اور ہے۔۔ یہ جو راستے ہیں جدا جدا۔۔ یہ معاملہ کوی اور ہے۔۔ ۳۱۳
تم غیروں کی بات کرتے ہو۔۔ ہم نے اپنے بھی آزماۓ ہیں۔۔ ۳۱۳