ہر روز ہم اداس ہوتے ہیں اور
شام گزر جاتی ہے۔۔
اک دن شام اداس ہو گی ۔۔
اور ہم گزر جائیں گے۔۔
۳۱۳
تیرے بدلنے کا غم نہی۔۔
بس اپنے اعتبار پر شرمندہ ہوں۔۔
۳۱۳
بچپن کی بھی کیا امیری تھی۔۔
جب پانی میں اپنے جہاز چلا کرتے تھے۔۔
۳۱۳
کتنی حسرت ہے ہمیں
تم۔سے دل لگانے کی۔۔
۳۱۳
میں راز تجھ سے کہوں ۔۔
ہم راز بن جا ذرا۔۔
۳۱۳
سچ کا زمانہ گیا۔۔
اب لوگ جھوٹ پہ اعتبار کرتے ہیں ۔۔
۳۱۳