میں فطرت بہت احساس ہوں مجھے دکھ دیتے تلخ رویئے میں تھک جاتی ہوں سہہ کر، سن کر، بول کر،سوچ کر اندر ہی اندر دل پہ بوجھ لیے رہتی ہوں اداسی ھے میری روح کا خاصہ ھے مگر میں اداسی بانٹ نہیں سکتی مجھے خواہش ہے کہ بانٹوں مسکراہٹیں، خوشیں، آسانیاں ، دعائیں
اسی گمان نے کبھی لوٹنے دیا نہ مجھے نہ جانے اس کو میرا انتظار ہو کہ نہ ہو۔۔۔۔۔! مگر یہ طے ھے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں میرے لیے بھلے وہ بے قرار ہو کہ نہ ہو۔۔۔۔ میں دھوپ بن نہیں سکتا وصی کسی کے لیے میرے لیے کوئی ابر بہار ہو کہ نہ ہو ۔۔۔