جب زندگی عارضی ھے تو بھلا مشکلات اور آزمائشیں کیسے مستقل ہو سکتی ھیں، اللہ پر یقین رکھیں کیونکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ھے۔
زندگی آزمائشوں کا سمندر ہے کسی سے لے کر آزمایا جاتا ھے تو کسی کو دے کر آزمایا جاتا ہے بس کہی صبر اور کہی شکر کی آزمائش ھے۔
ایک آنسو گرا تو میں ہنس پڑی
میری کوشش تھی کہ دوسرا نہ گرے
چاند نے مجھے احساس دلایا
🙂تنہا رہنا اتنا اداس نہیں
زخم وہی ھے جو چھپا لیا
جو بتا دیا وہ تماشا بن گیا
اللہ تکلیف اس لیے دیتا ھے کہ اس کا بندہ اس سے بات کرے
احترام کرنا تربیت ہوتی ھے کمزوری نہیں
اور معزرت کرنا حسن اخلاق ہوتا ھے ذلت نہیں
لفظوں کے بھی آنسو ہوتے ھیں، زندگی ہوتی ھے ، موت ہوتی ھے پھر ماتم ہوتا ھے۔
درد دل کتنا پسند آیا اسے
میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے
طلب تمنا ھے اب کے
کوئی تمنا نہ رہے 🙂
مجھے راس ھے تنہائیاں اپنی
تو اپنے وقت کا اچار ڈال لے
سنو! دل کو مارے بغیر
نور نہیں ملتا
اللہ تعالیٰ کی قربت کا بہترین
راستہ عاجزی ھے۔
آنکھ لگ جائے تو سرھانے کھڑا رہتا ھے
مر گئی میں تو میرے دکھ نے اجڑ جانا ھے