رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ھے سب اللہ کا ھے اور وہ سب سنتا اور جانتا ہے؛
تیرا لہجہ بتا گیا__ مجھ کو
تیرے دل میں عارضی تھی میں
مجھ کو معلوم نہ تھی ہجر کی یہ رمز
کہ تو جب میرے پاس نہ ہوگا
تو ہر 🌺🌺🌺🌺🌺🌺سو ہو گا
بالکل تم سی اور تمھاری لگتی ہوں
کبھی کبھی میں خود کو پیاری لگتی ھوں
کچھ اسیر لوگوں کی ہاتھ کی لکیروں میں
قسمتیں نہیں ہوتی عمر قید ہوتی ھے
اب مجھے الجھنا نہیں آتا
اب میں ہار مان جاتی ہوں
تو میرے دل میں مکیں
میں تیری تلاش میں گم
کچھ نگاہیں ____منتظر ھے
اور کسی کو فرصت ہی نہیں
میرا درد تم نہ سمجھ سکے
مجھے سخت اس کا ملال ھے
تسلی کی بات فقط یہ ھے کہ
ایک دن ہم بھی مر جائیں گے
کسی کا کچھ نہیں جاتا
کسی کی جان جاتی ھے
میں وہ ہوں ____جس میں
مبتلا خود _____ اداسی ھے
عمر رواں کو روکئیے __ آواز دیجئیے
ہم پیچھے رہ گئے ھے کئی حسرتوں کے ساتھ
دل بتاتا ہی نہیں ھے کیا کمی ھے
💔بس مسلسل اداس رہتا ھے۔
اک تماشا ہی سمجھ لو مجھ کو
دو گھڑی دیکھ لو میری جانب