کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہو گی
سبیل کر تو سہی کوئی روکنے کی مجھے
تو مجھ میں ڈال دے چوری کسی پیالے کی
عزت نفس بہت بڑی شے ھے
کوئی ہاتھ چھڑائے تو چھوڑ دیا کریں
جس راہ سے گزرنے کی اجازت نہیں مجھے
کئی بار گزرتے ھیں خواب میرے وہاں سے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ھے جس کی پردہ داری ہے
تجھ سے رشتہ تو کچھ نہیں لیکن
میں تجھے ہر پل یاد کرتی ہوں