جب جب تمہارا نام سامنے آتا ھے۔ تمام سیاق و سباق اور سابقے لاحقے منظر سے یکسر غائب ھوجاتے ہیں۔ نگاہ ٹھہرتی ھے تو بس اک تمہارے نام پر۔۔ اور دل ایسے شور کرنے لگتا ھے جیسے آنکھوں نے تمہارا نام نہیں پڑھا ھو براہِ راست تمہیں دیکھ لیا ھو ۔ چند ثانیے ٹھہر کر تمہارے نام کو آنکھوں کے رستے روح میں اترتے محسوس کرنے کا عمل دھیرے دھیرے میرا پسندیدہ مشغلہ بنتا جا رھا ھے۔ ❤️
کون کہتا ھے ____ مشکل ھے انسان کو مارنا لہجہ بدل ,انداز بدل, نظریں بدل اور مار دے
جو موت سے پہلے کی بیزاری ھوتی ھے آج کل ایسی تلخیاں حاوی ہیں مجھ پر۔۔۔
بعد مرنے کے مری لحد پے لکھنا تم شکر سد شکر ہر غم سے نجات مبارک
حکیم ناصر سارا ھی شہر اس کے جنازے میں تھا شریک تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مر گیا
اب کہاں جاؤں ؟ کہاں چکر لگاؤں؟ کیا کروں؟ میری وحشت کے مطابق__ کوئی ویرانہ نہیں
رنگ و رعنائی چھین لیتا ھے ”عشق ”زیبائی چھین لیتا ھے ”چشمِ یعقوب” کرچکی ثابت ”ہجر ”بینائی چھین لیتا ھے
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺎﮨﺮ ﮐﮩتے ھﻮ ﻧﺎ ۔۔ ۔ ۔ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ؟ بتاؤ ۔۔؟۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﯽ ھے
میری آخری ہچکی کو ذرا غور سے سُن زندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ھے
میری تہذیب کا معیار وراثت نہیں ھے مجھکو اجداد نے ورثے میں خسارا دیا تھا
کہیں وفا هی ﻧﮩﯿﮟ تھی ، هر ﺍِﮎ سوالی تھا میرے مزﺍﺝ کے لوگوﮞ سے ، شہر خالی تھا
*_خاموشی اتنی گہری تو ھونی چاہیئے کہ. *_بے قدری کرنے والوں کی چیخیں نکل جائیں
نہیں ھے شکوہ تیرے طرزِ تغافل سے شاید ہمیں ھی نہیں آتا دلوں میں گھر بنانا
اگر تم مجھے نا پسند کرنے کے باوجود میری ہر سرگرمی سے با خبر رہتے ھو تو اے جاہلِ مطلق_!! تم میرے سرکش مداح ھو
یہ عنایتیں غضب کی یہ بلا کی مہربانی میری خیریت بھی پوچھی کسی اور کی زبانی نزیر بنارسی