کبھی کبھی زندگی بے وجہ بے رنگ سی لگنے لگتی ہے، جسے آپ بلاوجہ اُداسی بھی کہہ سکتے ہیں، اور یہ ایسی صورتِ حال ہوتی جو ہمارے چہرے پر صاف نظر آتی ہے، ہمارے اردگرد ہمارے کچھ قریبی لوگ اسکی وجہ جاننے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، پوچھتے بھی ہیں مگر ہم خود اسکی وجہ نہیں جانتے۔ میں ویسے تو تمہیں اب مِس نہیں کرتی مگر ہاں اب میںی اپنی اُس ہر بے سبب اُداسی کو تُم سے منسُوب کرتی ھوں۔
! آئینہ صفت تُو مجھے خاک کر یا چاک کر .. میں ازل تک ترے گماں کی تصویر رھوں گا ترے ہر وہم و خواب کی تعبیر رہھوں گا میں محبت کا شاعر! اپنا دل تیرے پیروں کی پازیب کے ساتھ باندھوں گا اور پھر اس کی چھنن چھنن پہ اپنی دھڑکنوں کو وجد میں لاؤں گا میں دیکھوں گا کہ دنیا کے تمام رنگ، تمام استعارے، اور فلک کے ستارے ترے قدموں کی گرد ہوتے کیسے لگتے ھیں!