کہیں وفا ھی نہیں تھی ہر اک سوالی تھا
میرے مزاج کے لوگوں سے شہر خالی تھا۔
جسے بھی اب جہاں جانا چلا جائے خدا حافظ
بھلا ہم کب کسی کی راہ میں دیوار ھوتے ھیں؟
اگر چھوڑا کسی کو تو کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا
ہمارے سامنے پھر واسطے بے کار ھوتے ھیں
فجرِ حضور
مجھ میں کتنے راز ھیں__بتلاؤں کیا
بند ایک مدت سے ھوں__کُھل جاؤں کیا
عاجزی، منت، خوشامد، التجا
اورمیں کیا کیا کروں__مرجاؤں کیا؟؟
زندگی میں ریجیکشن نہیں ملے گی
آپکو تو آپ
صبر کرنا کیسےسیکھیں گے
زندگی میں اسٹرگل نہیں کرینگے تو
زندگی کے صحیح معنی کیسےپتا چلیں گے
زندگی میں سیکریفائیز نہیں کرینگے تو میچورٹی کیسے آئے گی
زندگی ہر قدم انسان کو
کچھ نہ کچھ سکھاتی رہتی یے
کیونکہ
زندگی بذات خود ایک بہترین استاد ھے
اب پھر بچھڑنے کی ____بات مت کرنا
میں ڈر گیا تھا میں مر بھی سکتا تھا...
درد سے میرے ہے تجھ کو ھے قراری ھائے ھائے
کیا ھوئی ظالم تری غفلت شعاری ھائے ھائے
مرزا غالب
" مُجھے شدید نفرت ہوتی ھے اُس لمحے سے ، کہ ؛ جب میرا غصہ میری آنکھوں سے پانی بن کر بہہ جاتا ھے ۔ "
🥀
تم نے اکتائے ھوئے خواب کبھی دیکھے ھیں ؟
درد کی پلکوں سے لپٹے ھوئے
گھبرائے ھوئے
تم نے بے چین دعائیں کبھی دیکھی ھیں ؟
محبت کے کناروں پر بھٹکتی پھرتی
تم نے دیکھا ھے مجھے؟
کیا کبھی دیکھا ہے مجھے؟
اُجڑے ہوۓ ہڑپہ کے آثار کی طرح
زندہ ھیں لوگ وقت کی رفتار کی طرح
کیا رہنا ایسے شہر میں مجبوریوں کے ساتھ
بِکتے ھیں لوگ شام کے اخبار کی طرح
بچوں کا رزق موت کے جھولے میں رکھ دیا
سرکس میں ُکودتے ھوۓ فنکار کی طرح
قاتل براجمان ہوئے منصف کے ساۓ میں
مقتول پھر رہا ھے عزادار کی طرح
وعدے ضرورتوں کی نظر کر دئیے گئے
رشتے ہیں سارے ریت کی دیوار کی طرح
محسن میرے وجود کو سنسار کرتے وقت
شامل تھا سارا شہر اِک تہوار کی طرح
محسن نقوی
ساڈی نوکری دے ___________ کہڑے مول پائے نی
دس کہڑے دن ______________دُکھڑے ونڈاۓنی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain